تل ابیب میں میزائل حملے کا دعویٰ، آئی آر جی سی کے بیان سے خطے میں کشیدگی مزید گہری
نیتن یاہو کے دفتر اور فضائیہ کمانڈر کے ٹھکانے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، اسرائیل نے الزامات مسترد کر دیے
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی تناؤ کے بیچ ایران کی پاسدارانِ انقلاب، یعنی Islamic Revolutionary Guard Corps (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ تل ابیب میں اہم سرکاری اہداف کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔آئی آر جی سی کے مطابق حملوں میں اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu کے دفتر اور اسرائیلی فضائیہ کے ایک اعلیٰ کمانڈر کے ٹھکانے کو ہدف بنایا گیا۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض حملوں میں “خیبر” نامی میزائل استعمال کیے گئے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایرانی بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حملوں کے بعد اسرائیلی قیادت میں غیر معمولی ہلچل دیکھی گئی، جبکہ وزیر اعظم یا متعلقہ فوجی عہدیداروں کی حالت کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر یا کسی اعلیٰ فوجی تنصیب پر ایسا کوئی حملہ نہیں ہوا۔ سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی دعوے بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد نفسیاتی دباؤ بڑھانا ہو سکتا ہے۔یاد رہے کہ حالیہ کشیدگی کا آغاز ایران پر مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ہوا، جس کے بعد دونوں جانب سے جوابی کارروائیوں اور بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ خطے میں سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور عالمی برادری کی جانب سے تحمل اور بات چیت پر زور دیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اطلاعات اور دعوؤں کی بھرمار ہے، اس لیے کسی بھی خبر کی باضابطہ تصدیق کا انتظار کرنا ضروری ہے۔ مزید پیش رفت سامنے آنے پر صورتحال واضح ہو سکے گی۔
