خطے میں کشیدگی میں اضافہ، تیل کی عالمی منڈی پر اثرات کے خدشات
ریاض/واشنگٹن: ایران کے حملے کے بعد سعودی عرب کی اہم تیل کمپنی Saudi Aramco نے خلیج پر واقع اپنی بڑی آئل ریفائنری راس تنورا کی کارروائی عارضی طور پر بند کر دی ہے، جس سے خطے میں امن و سلامتی کی فضا مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
سعودی وزارتِ دفاع کے مطابق سول انتظامیہ نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر ریفائنری کو بند کیا، جبکہ حملے میں کسی قسم کی انسانی جان کا نقصان نہیں ہوا۔ دو ڈرون طیاروں کو سعودی فضائی دفاع نے نشانے پر لینا شروع کیا تو ان کے ٹکڑے تنورا ریفائنری پر گرے، جس سے وہاں معمولی آگ لگی جسے تیزی سے قابو میں کر لیا گیا۔
JUST IN: 🇸🇦 Iran strikes Saudi Arabia's Aramco Ras Tanura oil refinery. pic.twitter.com/eTmPGRFAY5
— BRICS News (@BRICSinfo) March 2, 2026
عالمی تیل بازار پر اثر
اس واقعے کے فوراً بعد برانٹ کروڈ کی قیمت میں تقریباً 10 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ خلیج کی اہم شپنگ لائن آبنائے ہرمز کے قریب کشیدگی میں اضافے نے تیل کی دنیا بھر ترسیل پر خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
خطے میں تناؤ
یہ حملہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کا حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جو ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی لڑائی کا حصہ ہے۔ خطے کے متعدد ممالک میں سیکیورٹی آپریشنز سخت کر دیے گئے ہیں اور سفارتی سطح پر انتباہات جاری ہیں کہ اس طرح کے حملے اگر جاری رہے تو مزید سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
سعودی عرب نے اس کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور اقتصادی مفادات کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے گا۔
