ایران پر حملوں کے بعد پاکستان میں احتجاج شدت اختیار کر گیا، کراچی میں فائرنگ سے 10 افراد جاں بحق، گلگت و سکردو میں اقوامِ متحدہ کے دفاتر نذرِ آتش
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حالیہ حملوں اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کی خبروں کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ اتوار کو بھی جاری رہا۔ کراچی، اسلام آباد، لاہور، پشاور اور گلگت بلتستان سمیت کئی علاقوں میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر ہونے والا احتجاج اس وقت پرتشدد صورت اختیار کر گیا جب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب گلگت اور سکردو میں مشتعل مظاہرین نے اقوامِ متحدہ کے دفاتر کو آگ لگا دی۔ عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین کی بڑی تعداد نے پہلے ریلی نکالی اور بعد ازاں سرکاری و بین الاقوامی تنصیبات کی جانب رخ کیا، جس کے نتیجے میں املاک کو نقصان پہنچا۔سکردو کے ریجنل اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر آصف رضا نے مقامی صحافی محمد زبیر سے گفتگو میں تصدیق کی کہ پرتشدد واقعات کے بعد ان کے اسپتال میں پانچ لاشیں لائی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح دس سے گیارہ بجے کے درمیان زخمیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا جو دیکھتے ہی دیکھتے بڑھ گیا۔ڈاکٹر آصف رضا کے مطابق ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب بیک وقت 12 سے 13 زخمی افراد اسپتال پہنچے، جس سے طبی عملے کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ مجموعی طور پر تقریباً 50 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی، جن میں سے دو کی حالت انتہائی نازک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام زخمی افراد کو گولیاں لگی تھیں۔
ان کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں چار عام شہری جبکہ ایک شخص کا تعلق سکیورٹی ادارے سے تھا۔وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، لاہور، پشاور اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی احتجاجی مظاہرے ریکارڈ کیے گئے۔ کئی مقامات پر سکیورٹی ہائی الرٹ رہی جبکہ حساس تنصیبات کے اطراف نفری بڑھا دی گئی ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پرامن رہیں اور قانون ہاتھ میں لینے سے گریز کریں۔سیاسی و مذہبی حلقوں کی جانب سے بھی اس صورتحال پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جبکہ ملک کی مجموعی امن و امان کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
