مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے کے امن کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور ہزاروں مسافروں کی پریشانی اس بحران کی شدت کو ظاہر کر رہی ہے۔ایران پر ہونے والے حالیہ حملوں میں وہاں کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد خطے میں عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوا۔ اس تناظر میں کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹارگٹڈ کارروائیوں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کی شدید مذمت کی ہے۔
The targetted assassination of the leadership of a sovereign nation by the so called leaders of the democratic world and the killing of multitudes of innocent people is despicable and deserves strong condemnation, no matter what the proclaimed reason for it is.
It is tragic that…
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) March 1, 2026
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ کسی خودمختار ملک کی قیادت کو نشانہ بنانا اور بے گناہ شہریوں کی جان لینا کسی بھی جواز کے تحت درست نہیں قرار دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق دنیا کو مزید جنگوں کی نہیں بلکہ سنجیدہ سفارتی کوششوں اور امن کی ضرورت ہے۔پرینکا گاندھی نے عالمی رہنماؤں کو یاد دلایا کہ انتقام کی سیاست مسائل کا حل نہیں۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’آنکھ کے بدلے آنکھ پوری دنیا کو اندھا بنا دیتی ہے اس لیے طاقت کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔کانگریس رہنما نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ جنگ زدہ علاقوں میں موجود بھارتی شہریوں کی فوری اور محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بیرون ملک پھنسے ہوئے شہریوں کی مدد کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔ادھر جنگی ماحول کے باعث عالمی فضائی نظام بھی متاثر ہوا ہے۔ Air India نے یکم مارچ تک متعدد پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) نے ایئر لائنز کو 11 ممالک کی فضائی حدود سے گریز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ کئی ممالک نے عارضی طور پر اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جس کے باعث دبئی سے ہندوستان تک مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے اور بعض افراد ایئرپورٹس پر ہی رات گزارنے پر مجبور ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر صورتحال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو اس کے سیاسی، معاشی اور انسانی اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات کرے، تاکہ خطے کو ایک طویل اور تباہ کن بحران سے بچایا جا سکے۔
