آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ملک بھر میں غم و غصہ، علماء کی امریکہ و اسرائیل کے خلاف سخت مذمت
لکھنؤ: ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر اور مذہبی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبر سامنے آنے کے بعد ہندوستانی مسلمانوں میں سوگ کی فضا پائی جارہی ہے۔ مختلف مذہبی رہنماؤں نے اس واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔لکھنؤ کے امام جمعہ مولانا کلب جواد نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ اسلام میں شہادت کو سب سے بلند درجہ حاصل ہے اور ہر مومن کی تمنا ہوتی ہے کہ وہ راہِ حق میں جان قربان کرے۔ ان کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای بھی ہمیشہ شہادت کی خواہش کا اظہار کرتے رہے اور بالآخر وہ اسی راستے میں شہید ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے میں دیگر علماء بھی شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوئے ہیں۔
مولانا کلب جواد نے امریکہ اور اسرائیل کی کارروائی کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای ہمیشہ مظلوموں کی حمایت میں کھڑے رہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کا خون کبھی ضائع نہیں جاتا بلکہ وہ انقلاب کی بنیاد بنتا ہے۔ ان کے بقول اس واقعے کے اصل ذمہ دار خود اپنے انجام کو دعوت دے رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی وفات نہ صرف ایران بلکہ پوری انسانیت کے لیے بڑا نقصان ہے کیونکہ وہ مظلوم اقوام کی آواز سمجھے جاتے تھے۔ مولانا نے اعلان کیا کہ لکھنؤ کے امام باڑہ آصفی میں ان کی یاد میں سوگوار اجتماع منعقد ہوگا اور رات آٹھ بجے کینڈل مارچ نکالا جائے گا۔
ادھر معروف عالم دین مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر یکطرفہ حملہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک خود مختار اور جمہوری ملک کے خلاف اس طرح کی کارروائی ناقابل قبول ہے اور اس پر عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔
مولانا خالد رشید نے الزام لگایا کہ اس حملے میں تعلیمی اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا اور معصوم جانیں ضائع ہوئیں، جس کی وہ شدید مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے رمضان کے مقدس مہینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک کو چاہیے کہ وہ اس تنازع کو فوری طور پر روکنے کے لیے مداخلت کریں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور سخت کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حالات میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور امن و امان برقرار رکھیں۔
