ناگپور میں ہولناک صنعتی سانحہ، دھماکہ خیز مواد بنانے والی فیکٹری تباہ، 15 افراد ہلاک، 18 شدید زخمی
مہاراشٹر کے ضلع ناگپور کی کٹول تحصیل کے راؤل گاؤں میں ہفتہ کی صبح ایک اندوہناک صنعتی حادثہ پیش آیا جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔ دھماکہ خیز مواد تیار کرنے والی کمپنی ایس بی ایل انرجی لمیٹڈ کے یونٹ میں اچانک زبردست دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد جاں بحق جبکہ 18 مزدور شدید زخمی ہو گئے۔پولیس حکام کے مطابق دھماکہ صبح تقریباً 6 سے 7 بجے کے درمیان پیش آیا۔ ناگپور (دیہی) کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ہرش پودار نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی جانچ سے معلوم ہوا ہے کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب مزدور فیکٹری کے اندر دھماکہ خیز مواد کی تیاری کے عمل میں مصروف تھے۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تکنیکی ماہرین کی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔علاقے کے مکینوں کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ زمین لرز اٹھی اور اس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنائی دی۔ قریبی دیہاتوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ بعض گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ لوگوں نے دھوئیں کے گھنے بادل آسمان کی طرف اٹھتے دیکھے جس سے علاقے میں افراتفری مچ گئی۔حادثے کے وقت فیکٹری یونٹ میں تقریباً 25 سے 30 مزدور کام کر رہے تھے۔ دھماکے کے فوراً بعد آگ بھڑک اٹھی جس نے عمارت کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں موقع پر پہنچیں اور کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پایا گیا۔
ریسکیو ٹیموں نے ملبہ ہٹا کر زخمیوں اور لاشوں کو باہر نکالا۔ زخمیوں کو فوری طور پر ناگپور کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق بعض زخمیوں کو شدید جھلسنے اور دھماکے کے باعث اندرونی چوٹیں آئی ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھ افراد ابھی بھی ملبے کے نیچے دبے ہو سکتے ہیں، جس کے باعث سرچ آپریشن جاری ہے۔ضلعی انتظامیہ نے احتیاطی طور پر فیکٹری کے اطراف کے علاقے کو سیل کر دیا ہے اور اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فیکٹری کے حفاظتی انتظامات اور لائسنسنگ ریکارڈ کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ابتدائی طور پر تکنیکی خرابی یا حفاظتی اصولوں میں کوتاہی کو ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم حتمی رپورٹ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی جاری کی جائے گی۔ ریاستی حکومت کی جانب سے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی انکوائری کے احکامات دیے گئے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے کا اعلان متوقع ہے۔یہ حادثہ ایک بار پھر صنعتی یونٹس میں حفاظتی معیارات پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے خطرناک مواد سے وابستہ فیکٹریوں میں سخت نگرانی اور حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
