کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے کہا ہے کہ کسی بھی ریاست میں سرکاری ملازمین سے متعلق ڈیٹا انتہائی قیمتی اور حساس ہوتا ہے۔ اگر اس ڈیٹا کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے تو کانگریس اس کے خلاف بھرپور آواز اٹھائے گی۔سرکاری ملازمین کا ڈیٹا چوری ہو رہا ہے، یہ ایک سنگین معاملہ: کانگریسکانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے سرکاری ملازمین کے ڈیٹا سے متعلق کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘‘ میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوںنے کہا کہ ریاست بھر میں سرکاری ملازمین کے ڈیٹا کی چوری کے الزامات سامنے آ رہے ہیںجو انتہائی تشویشناک اور فکر انگیز ہیںہم اسکی سخت مخالفت کرتے ہیں اور کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا استقبال کرتے ہیں۔وینوگوپال نے کہا کہ سرکاری ملازمین سےمتعلق معلومات نہایتبیش قیمت ہوتی ہیں۔ اگر اس ڈیٹا میں کسی بھیسطح پر مداخلت کی جا رہی ہے یا اسے نجی ایجنسیوں کے حوالے کیا جا رہا ہے تو یہ نہایت سنجیدہ مسئلہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر اس اقدام کے پیچھے کیا منشا ہے؟ اس ڈیٹا کا استعمال کہیں بھی کیا جا سکتا ہے اور اس کے غلط استعمال کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔انہوں اس طرح کے اقدامات سرکاری زمین نے مزید کہا کہ حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے کیرالہ ہائی کورٹ کو اس معاملے میں مداخلت کرنی پڑی۔ عدالت نے سخت لہجے میں ریاستی حکومت کو اس طرح کے اقدامات سے باز رہنے کی ہدایت دی ہے۔ کانگریس کے مطابق یہ پوری طرح نامناسب عمل ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔۔کے سی وینوگوپال نے موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پہلے سیاسی فائدے کے لیے ای ڈی اور سی بی آئی جیسے آئینی اداروں کا استعمال کیا گیا، اور جب اس سے بھی مقصد حاصل نہ ہوا تو معصوم بچوں کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کانگریس کو یقین ہے کہ ایک دن حالات بدلیں گے اور عوام کی طاقت سے تصویر تبدیل کی جائے گی۔
