مذہب ترک کیے بغیر ’نو کاسٹ، نو ریلیجن‘ سرٹیفکیٹ ممکن نہیں: مدراس ہائی کورٹ مدراس ہائی کورٹ کی مدورائی بنچ نے ایک اہم معاملے کی سماعت کے دوران واضح کیا ہے کہ اگر کوئی شخص سرکاری سرٹیفکیٹ میں اپنی ذات اور مذہب کا اندراج نہیں چاہتا تو اسے پہلے باقاعدہ طور پر اپنا مذہب ترک کرنا ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ مذہب برقرار رکھتے ہوئے ذات اور فرقے کے ذکر کو ختم کرنے کی درخواست قبول نہیں کی جا سکتی۔جسٹس کرشنن رام سوامی نے ریمارکس دیے کہ ہندو روایات کے مطابق جب تک کوئی فرد اپنے مذہب سے دستبردار نہ ہو، اس وقت تک ذات اور فرقے کے بغیر سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص واقعی اپنا مذہب چھوڑ دیتا ہے تو پھر اسے ’نو کاسٹ، نو ریلیجن‘ (نہ ذات، نہ مذہب) کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔یہ معاملہ ایک درخواست گزار کی عرضی سے متعلق تھا، جس نے دعویٰ کیا تھا کہ تمل ناڈو کے تروپتور تعلقہ کے تحصیلدار نے ایسا سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے جس میں مذہب اور ذات کا کوئی ذکر نہ ہو
۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اگرچہ اس کے والدین ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے، لیکن وہ اپنی دستاویزات میں مذہب اور ذات کا اندراج نہیں چاہتا۔تحصیلدار نے درخواست اس بنیاد پر مسترد کر دی تھی کہ ایسے سرٹیفکیٹ کے اجرا سے متعلق کوئی سرکاری ہدایت موجود نہیں ہے۔ بعد ازاں معاملہ ہائی کورٹ پہنچا۔
سماعت کے دوران بنچ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ کیا اس نے اپنے پیدائشی مذہب کو باضابطہ طور پر ترک کر دیا ہے؟ اس پر اس نے اعتراف کیا کہ اس نے مذہب نہیں چھوڑا۔ عدالت نے کہا کہ جب تک وہ اپنے مذہب سے دستبرداری کا واضح ثبوت پیش نہیں کرتا، اس کی درخواست پر غور نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے تحصیلدار کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے عرضی خارج کر دی۔ تاہم بنچ نے یہ وضاحت بھی کی کہ اگر درخواست گزار مستقبل میں مذہب ترک کرنے کا مستند ثبوت پیش کرے تو متعلقہ حکام اس کی نئی درخواست پر غور کر سکتے ہیں۔یہ معاملہ سرکاری دستاویزات میں مذہب اور ذات کے اندراج سے متعلق ایک منفرد اور قابلِ توجہ قانونی بحث کے طور پر سامنے آیا ہے
