مسجد کا داخلی دروازہ بند، لکھنؤ یونیورسٹی میں کشیدگی اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ، جو گنگا جمنی تہذیب اور شائستگی کے لیے پہچانی جاتی ہے، ایک بار پھر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال بن کر سامنے آئی ہے۔ یہاں ملک کا مستقبل سمجھے جانے والے نوجوانوں نے عبادت کے احترام اور باہمی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق لکھنؤ یونیورسٹی انتظامیہ نے سیکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے تاریخی لال بارہ دری اور اس کے احاطے میں قائم قدیم مسجد کے داخلی دروازے کو بند کر کے وہاں بیریکیڈنگ کر دی، جس کے بعد کیمپس میں بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی۔ اس فیصلے کے خلاف طلبہ رہنماؤں اور مسلم طلبہ نے احتجاج کیا اور انتظامیہ سے وضاحت کا مطالبہ کیا۔
یونیورسٹی حکام کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ عمارت آثارِ قدیمہ کے ادارے کی نگرانی میں ایک خستہ حال ورثہ ہے، اس لیے کسی ممکنہ حادثے سے بچاؤ کے لیے یہ اقدام ضروری سمجھا گیا۔ تاہم طلبہ نے اسے اچانک اور بغیر پیشگی اطلاع کا قدم قرار دیا۔ مشتعل طلبہ کی بڑی تعداد بارہ دری کے سامنے جمع ہوئی اور نعرے بازی کی۔
بعد ازاں جب مسجد کا دروازہ بند پایا گیا تو مسلم طلبہ نے باہر ہی نماز ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی دوران یکجہتی کا ایک قابلِ ذکر منظر دیکھنے میں آیا جب ہندو طلبہ اپنے مسلم ساتھیوں کے گرد حفاظتی حصار بنا کر کھڑے ہوگئے تاکہ نماز کے دوران کوئی خلل نہ پڑے۔ طلبہ نے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر انسانی زنجیر بنائی اور بھائی چارے کا پیغام دیا۔
واضح رہے کہ تقریباً دو صدی پرانی لال بارہ دری کو نواب ناصر الدین حیدر کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے آثارِ قدیمہ کے ادارے کی جانب سے محفوظ تاریخی عمارت کا درجہ حاصل ہے۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز تیزی سے گردش کر رہی ہیں، جن میں نوجوان نسل کو مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام کی مثال قائم کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
