اسلام آباد: پاکستان میں بڑھتے ہوئے ایندھن کے بحران کے پیش نظر وزیر اعظم شہباز شریف نے کئی اہم اور سخت فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔ قوم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث ایندھن کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے، اسی لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنے پڑے ہیں۔وزیراعظم کے مطابق سرکاری دفاتر اب ہفتے میں صرف چار دن کھلے رہیں گے جبکہ تقریباً 50 فیصد سرکاری ملازمین گھر سے کام کریں گے۔ تاہم یہ فیصلہ بینکوں پر لاگو نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ توانائی کی بچت کے لیے اسکولوں کو دو ہفتوں کے لیے بند کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق خام تیل کی قیمت تقریباً 60 ڈالر سے بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہے، جس کا براہ راست اثر پاکستان جیسے ممالک پر پڑ رہا ہے جو زیادہ تر تیل اور گیس درآمد کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایندھن کی بچت کے لیے حکومت نے سرکاری اداروں میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کے لیے ایندھن کی منظوری میں 50 فیصد کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی طرح سرکاری محکموں کی 60 فیصد گاڑیاں آئندہ دو ماہ تک استعمال نہیں کی جائیں گی۔
وزیراعظم نے مزید اعلان کیا کہ وفاقی وزراء، مشیروں اور معاونین خصوصی آئندہ دو ماہ تک اپنی تنخواہیں نہیں لیں گے، جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں بھی اسی مدت کے لیے 25 فیصد کمی کی جائے گی۔حکومت نے اخراجات کم کرنے کے لیے سرکاری سطح پر عشائیوں اور افطار پارٹیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری افسران اور وزراء کے غیر ضروری غیر ملکی دوروں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ سیمینار اور سرکاری تقریبات اب صرف سرکاری مقامات پر ہی منعقد کی جا سکیں گی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت اس مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے سفارتی سطح پر بھی کوششیں کر رہی ہے اور دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو اور توانائی کے بحران کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
