ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 میں قومی کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے خلاف سخت قدم اٹھاتے ہوئے 50 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ٹیم کے سپر-8 مرحلے سے آگے نہ بڑھنے اور مجموعی طور پر غیر تسلی بخش کھیل کی بنیاد پر کیا گیا۔رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بورڈ نے بھارت کے خلاف شکست کے فوراً بعد ہی نظم و ضبط کے حوالے سے کارروائی کا عندیہ دے دیا تھا، تاہم اس بارے میں تاحال باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ کے چیئرمین **محسن نقوی** ٹیم کی کارکردگی سے خاصے ناراض ہیں اور آئندہ دنوں میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ٹی-20 ٹیم کی قیادت میں تبدیلی پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جبکہ چند سینئر کھلاڑیوں کے مستقبل کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
ہیڈ کوچ **مائیک ہیسن** نے مبینہ طور پر مشورہ دیا ہے کہ ٹیم کو جدید ٹی-20 کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق ازسرِنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے، جس کے لیے نوجوان کھلاڑیوں کو زیادہ مواقع دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ٹورنامنٹ میں کارکردگی کا خلاصہ
قومی ٹیم نے گروپ مرحلے میں ملے جلے نتائج دیے۔ بھارت کے خلاف نمایاں شکست کے باوجود نسبتاً کمزور ٹیموں کو ہرا کر سپر-8 تک رسائی حاصل کی۔سپر-8 مرحلے میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ نیوزی لینڈ کے خلاف پہلا میچ بارش کے باعث بے نتیجہ رہا، انگلینڈ کے ہاتھوں شکست نے سیمی فائنل کی امیدوں کو دھچکا پہنچایا، جبکہ سری لنکا کے خلاف سنسنی خیز مقابلے میں پانچ رنز سے کامیابی ملی۔ تاہم بہتر نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل میں جگہ بنا لی اور پاکستان ایونٹ سے باہر ہو گیا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بورڈ کی جانب سے ممکنہ تبدیلیاں ٹیم کی کارکردگی میں بہتری لا پاتی ہیں یا نہیں۔
