نئی دہلی: ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کے تقریباً پانچ دن بعد بھارت نے باضابطہ طور پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے سیکریٹری وکرم مصری نے نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے جا کر تعزیتی کتاب میں پیغام درج کیا اور مرحوم رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا۔
ایرانی حکام کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای ہفتے کے روز ایران پر ہونے والے مشترکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد کئی ممالک کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا، تاہم بھارت نے کئی دن تک اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے رکھی جس پر سیاسی اور سفارتی حلقوں میں سوالات اٹھنے لگے۔اس سے قبل بھارت کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے کشیدگی کے آغاز پر ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر بات کی تھی۔ اس گفتگو کے بعد جاری بیان میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار تو کیا گیا، مگر حملوں یا خامنہ ای کی ہلاکت کے حوالے سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔
بھارت کی اس تاخیر پر ملک کے اندر اپوزیشن جماعتوں نے بھی سوال اٹھائے ہیں۔ بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایران سے متعلق واقعات پر نئی دہلی نے زیادہ تیزی سے ردعمل دیا تھا۔ مثال کے طور پر 2024 میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے میں انتقال کے بعد بھارت نے سرکاری سوگ کا اعلان کیا تھا۔
اسی طرح 2020 میں جب ایرانی فوج کے سینئر کمانڈر قاسم سلیمانی امریکی حملے میں ہلاک ہوئے تھے تو بھارت نے ایک بیان جاری کر کے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ بھارت کا محتاط رویہ دراصل پیچیدہ عالمی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ سابق بھارتی سیکریٹری خارجہ کنول سبل کے مطابق بھارت ایسی صورتحال میں براہ راست کسی فریق کے خلاف مؤقف اختیار کرنے سے گریز کرتا ہے جہاں اس کے اہم سفارتی اور معاشی مفادات متاثر ہو سکتے ہوں۔
اسی طرح سابق سفیر راکیش سود کے مطابق اس خاموشی کی ایک وجہ عالمی سیاست کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو ایک طرف امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے ہیں تو دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی سفارتی روابط مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہتا۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق نئی دہلی کی پالیسی دراصل توازن قائم رکھنے کی کوشش ہے۔ بھارت کے لیے مشرق وسطیٰ نہ صرف توانائی کی فراہمی بلکہ تجارت اور بیرون ملک مقیم لاکھوں بھارتی شہریوں کے باعث بھی انتہائی اہم خطہ ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ بھارت اس حساس معاملے میں محتاط سفارت کاری اختیار کر رہا ہے تاکہ کسی بھی فریق کے ساتھ تعلقات متاثر نہ ہوں۔
