لکھنؤ / نئی دہلی: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد دنیا بھر میں شیعہ برادری میں گہرے غم کی لہر پائی جا رہی ہے۔ اسی سلسلے میں ہندوستان میں بھی شیعہ طبقہ نے اس سال عید سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق کئی شیعہ تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ اس مرتبہ عید کے موقع پر روایتی خوشیاں نہیں منائی جائیں گی۔ برادری کے افراد عید کی نماز کے لیے نئے کپڑے پہننے کے بجائے پرانے کپڑوں میں ہی عیدگاہ یا مسجد جائیں گے تاکہ مرحوم رہنما کے ساتھ اظہارِ تعزیت کیا جا سکے۔
انجمن تنظیم العزا کے جنرل سکریٹری سید نادر عباس نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ معروف شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد نے برادری سے اپیل کی ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے انتقال کے پیش نظر اس بار عید کی تقریبات سادگی کے ساتھ ادا کی جائیں۔ ان کے مطابق لوگ صرف عید کی نماز ادا کریں گے اور روایتی جشن و خوشی سے گریز کریں گے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عید کے دن بہت سے افراد بازو پر سیاہ پٹی باندھ کر نماز ادا کریں گے تاکہ اس طرح ایران کے مرحوم رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے اور غم کا اظہار بھی کیا جائے۔دوسری جانب شیعہ برادری سے وابستہ بعض سماجی و مذہبی شخصیات کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ احترام اور سوگ کے اظہار کے طور پر کیا گیا ہے۔ شاہ جمال کربلا کے متولی مختار زیدی کے مطابق اس اقدام کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ برادری اپنے رہنما کے انتقال پر غمزدہ ہے۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان میں عید الفطر 20 یا 21 مارچ کو منائے جانے کا امکان ہے۔ عید سے قبل جاری کی گئی اس اپیل کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں شیعہ برادری کے افراد اسی انداز میں عید کی نماز ادا کریں گے۔
