بحیرۂ عرب میں انسانیت کی روشن مثال: بھارتی بحریہ نے 8 پاکستانی ماہی گیروں کو موت کے منہ سے بچا لیا
بحیرۂ عرب سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے سرحدوں سے بالاتر ہو کر انسانیت کی عظیم مثال قائم کر دی ہے۔ ہندوستانی بحریہ نے سمندر میں پھنسے 8 پاکستانی ماہی گیروں کو بحفاظت بچا کر ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ مشکل وقت میں انسانیت سب سے بڑی پہچان ہوتی ہے۔
یہ واقعہ 15 مارچ کا ہے، جب عمان کے دقم بندرگاہ سے تقریباً 170 ناٹیکل میل مشرق میں کھلے سمندر میں ایک لائف رافٹ پر چند افراد کے پھنسے ہونے کی اطلاع ملی۔ یہ ماہی گیر کئی دنوں سے سمندر میں بے یار و مددگار تیر رہے تھے۔
تفصیلات کے مطابق، یہ تمام ماہی گیر اصل میں 14 افراد پر مشتمل ایک گروہ کا حصہ تھے، جو ’اسلامی‘ نامی پاکستانی ماہی گیری کشتی پر سوار تھے۔ یہ کشتی 24 فروری کو ایران کے ساحل سے روانہ ہوئی تھی، لیکن بدقسمتی سے سفر کے دوران کشتی کے انجن روم میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔اس افسوسناک حادثے میں 6 ماہی گیر کشتی کے اندر ہی پھنس گئے اور جانبر نہ ہو سکے، جبکہ باقی 8 افراد کسی طرح اپنی جان بچانے میں کامیاب رہے۔
یہ ماہی گیر کئی دنوں تک کھلے سمندر میں شدید بھوک، پیاس اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرتے رہے، جہاں ہر گزرتا لمحہ ان کے لیے زندگی اور موت کے درمیان ایک امتحان بن چکا تھا۔11 مارچ کو ایک کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیارے نے ان افراد کو دیکھا، جس کے بعد ایک امدادی کشتی نے انہیں عارضی طور پر ایک لائف رافٹ اور محدود خوراک فراہم کی۔ مگر اس کے باوجود وہ سمندر میں ہی پھنسے رہے۔بالآخر، ہندوستانی بحریہ کے جنگی جہاز آئی این ایس سورت نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان ماہی گیروں کو ریسکیو کر لیا۔ یہ جہاز اس وقت خلیج عمان اور مغربی بحیرۂ عرب میں علاقائی سیکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات تھا۔ریسکیو کے بعد تمام ماہی گیروں کو جہاز پر منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد، خوراک اور آرام فراہم کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق، کچھ ماہی گیروں کی حالت انتہائی کمزور تھی، جنہیں فوری طبی نگرانی میں رکھا گیا تاکہ ان کی صحت کو مستحکم کیا جا سکے۔فی الحال ان ماہی گیروں کو کسی محفوظ بندرگاہ پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے، جس کے لیے بحریہ، سمندری ایجنسیوں اور سفارتی ذرائع کے درمیان قریبی رابطہ قائم کیا جا رہا ہے۔ چونکہ یہ تمام افراد پاکستانی شہری ہیں، اس لیے متعلقہ غیر ملکی حکام سے بھی مسلسل رابطہ کیا جا رہا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہندوستانی بحریہ ماضی میں بھی ایسے کئی انسانیت سوز حالات میں مدد فراہم کرتی رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، مارچ 2024 سے اپریل 2025 کے دوران مختلف آپریشنز میں پاکستانی شہریوں کو نہ صرف بچایا گیا بلکہ انہیں صومالی قزاقوں سے بھی آزاد کرایا گیا تھا۔یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ سمندر میں نہ کوئی سرحد ہوتی ہے اور نہ دشمنی—وہاں صرف انسانیت کی قدر کی جاتی ہے۔ ریسکیو کیے گئے ماہی گیروں نے ہندوستانی بحریہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بروقت مدد نہ ملتی تو شاید وہ زندہ واپس نہ آ پاتے۔
