اورنگ آباد ۲۸:اپریل مجلس تحفیظ القرآن کی جانب سے ایک عظیم الشان انعامی اجلاس بھی منعقد کیا گیا جس میں مبارک بھائی، خادم مسجد ممتاز کے عمرہ کے اعلان کا ذکر کیا گیا۔ بتایا گیا کہ دوسرے سال سے اب تک یہ مسابقہ قرآنیہ اورنگ آباد کے زیر اہتمام باقاعدگی سے منعقد ہو رہا ہے۔ مزید واضح کیا گیا کہ عنقریب عمرہ کے لیے روانگی بھی عمل میں آئے گی اور مسجد ممتاز میں اس کا نظام جاری ہے۔
خان فیملی کی جانب سے یہ سلسلہ گزشتہ چار برسوں سے مسلسل جاری ہے، جس کے تحت شہر کے قدیم حفاظِ کرام کو مسلسل موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک بھر کے مختلف حفاظ کو بہترین انداز میں عزت و احترام اور خاطر داری فراہم کی جاتی ہے، جبکہ سال کے اختتام پر فائنل مسابقہ بھی منعقد کیا جاتا ہے جس میں رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی (مالیگاؤں) کی سرپرستی شامل ہوتی ہے۔
اس سال مسابقہ قرآنیہ کا پانچواں مرحلہ بھی منعقد کیا گیا جس میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے حفاظ کو خصوصی مہمان کی حیثیت سے مدعو کیا گیا۔ یہ پروگرام چار مختلف حصوں پر مشتمل تھا۔ اجلاس کی صدارت الحاج انور خان (بسم اللہ خان چیئرمین) نے کی۔
اس موقع پر مقررین اور اکابر علماء نے مسابقہ قرآنیہ کے منفرد انداز کو سراہا۔ ایلورہ کنسٹرکشن کے آصف احمد خان اور دیگر اراکین نے بھی اس کارکردگی کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ بہترین کارکردگی دکھانے والے حفاظ کو خان فیملی کی جانب سے عمرہ کی سعادت سے نوازنے کا اعلان کیا گیا۔
پہلے سال میں تین حفاظ کرام کو عمرہ کی سعادت دی گئی تھی جس پر شرکاء نے خوشی کا اظہار کیا اور دعاؤں سے نوازا۔ دوسرے سال میں بھی مختلف علماء کرام جیسے مفتی معز الدین قاسمی، مولانا عبد الشکور اور دیگر شخصیات کی موجودگی میں انعامات تقسیم کیے گئے اور خان فیملی کے اس اقدام کو بھرپور سراہا گیا۔
تیسرے سال میں مفتی محمد ندیم اشاعتی، مفتی عقیل الرحمن اشرفی اور دیگر علماء کی برکت سے پروگرام منعقد ہوا جس میں الحاج انور خان اور ان کے برادران کو مبارکباد پیش کی گئی۔ اسی موقع پر بعض حفاظ کے لیے عمرہ کا اعلان بھی کیا گیا۔
چوتھے سال کے فائنل میں بھی مسابقہ قرآنیہ کا تسلسل برقرار رہا اور ماہانہ مرحلہ وار مسابقات کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کی شوریٰ سے وابستہ ایک اہم شخصیت نے بھی شرکت کی۔
آخر میں تمام شرکاء نے خان فیملی کے اس مثالی اقدام کو سراہا اور ملک و ملت کی ترقی، قرآن سے وابستگی اور اتحادِ امت کے لیے دعا کی گئی۔ اجلاس کا اختتام رقت انگیز دعا پر ہوا۔
