اورنگ آباد میں گیس سلنڈروں کی قلت کے باعث مٹی کے تیل کی مانگ اچانک بڑھ گئی ہے۔ حکومت نے متبادل انتظام کے طور پر ضلع میں 24 ہزار لیٹر صلاحیت کے 12 ٹینکروں کے ذریعے مٹی کے تیل کی سپلائی شروع کر دی ہے، تاہم فی الحال یہ سہولت صرف راشن کارڈ ہولڈروں تک محدود رکھی گئی ہے، جس کے باعث بیرونِ ریاست سے آئے مزدور، کرایہ دار اور چھوٹے ہوٹل مالکان شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
والوج اور صنعتی علاقوں میں کام کرنے والے ہزاروں مزدوروں کے پاس مقامی راشن کارڈ موجود نہیں ہیں۔ گیس کی عدم دستیابی کے باعث ان کے لیے کھانا پکانا ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ دوسری جانب چھوٹے ہوٹل چلانے والے افراد نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں مٹی کا تیل فراہم کیا جائے تاکہ کاروبار متاثر نہ ہو۔ کئی خاندانوں کے پاس چولہے تو موجود ہیں لیکن گیس نہ ہونے کی وجہ سے وہ استعمال نہیں ہو پا رہے۔
سپلائی محکمہ نے ابتدا میں صرف راشن کارڈ ہولڈروں کو مٹی کا تیل تقسیم کرنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ متعدد خوردہ فروشوں کے پاس اب بھی اسٹاک موجود بتایا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں راشن کارڈ کی شرط نرم کر کے ضرورت مند افراد کو بھی مٹی کا تیل فراہم کیا جانا چاہیے۔
ادھر شہر میں مارکیٹ لائسنس فیس کو لے کر تاجروں اور میونسپل انتظامیہ کے درمیان تنازعہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ تاجروں کی تنظیم نے میئر سے ملاقات کر کے فیس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم میونسپل انتظامیہ نے واضح کیا کہ حکومتی قواعد کے مطابق فیس وصولی لازمی ہے۔
