ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران تہران نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی اور ممکنہ معاہدے سے متعلق امریکہ کی نئی تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump نے ایک بار پھر ایران کو سخت لہجے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جلد معاہدہ نہ ہوا تو مزید شدید کارروائی کی جائے گی۔ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے دوبارہ کھولنے کی شرط بھی شامل بتائی جا رہی ہے۔
ادھر ایران نے آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کے ایک کارگو جہاز پر حملے کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ سیئول میں موجود ایرانی سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ تہران اس واقعے میں ملوث ہونے کے دعوؤں کو قطعی طور پر قبول نہیں کرتا۔ یاد رہے کہ پاناما کے جھنڈے والے کارگو جہاز “ایچ ایم ایم نامو” میں 4 مئی کو اس وقت آگ لگ گئی تھی جب وہ 24 افراد پر مشتمل عملے کے ساتھ حساس سمندری راستے سے گزر رہا تھا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے خلیج عمان میں ایک ایرانی آئل ٹینکر پر کارروائی کی تصدیق کی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق لڑاکا طیارے نے اس وقت فائرنگ کی جب مذکورہ ٹینکر امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایرانی بندرگاہوں کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا کہ ایرانی حملوں کے دوران امریکی بحریہ کے تین ڈسٹرائرز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم امریکی جہاز محفوظ رہے جبکہ ایرانی اہداف کو “بھاری نقصان” پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اب بھی معاہدے کے لیے تیار ہے، لیکن اگر تہران نے جلد فیصلہ نہ کیا تو آئندہ کارروائی پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور تباہ کن ہوگی۔
