کولکاتا: مغربی بنگال کی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی سامنے آئی ہے۔ بی جے پی کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ سویندو ادھیکاری ریاست کے نئے وزیراعلیٰ ہوں گے۔ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 207 نشستیں جیت لیں اور پہلی بار اپنے بل بوتے پر مغربی بنگال میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی۔
کولکاتا میں منعقدہ بی جے پی قانون ساز پارٹی کے اجلاس کے بعد امت شاہ نے سویندو ادھیکاری کے نام کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی قیادت کی ہدایت پر وہ اور موہن چرن ماجھی مرکزی مبصر کی حیثیت سے اجلاس میں شریک ہوئے تھے، جہاں تمام اراکین نے متفقہ طور پر سویندو ادھیکاری کی حمایت کی۔ کسی دوسرے نام کی تجویز پیش نہ ہونے پر انہیں بی جے پی قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب کر لیا گیا۔
بی جے پی کی اس تاریخی کامیابی کا بڑا سہرا بھی سویندو ادھیکاری کے سر باندھا جا رہا ہے، جو کبھی ممتا بنرجی کے قریبی ساتھی اور ترنمول کانگریس کے اہم رہنما سمجھے جاتے تھے۔ تاہم پارٹی قیادت سے اختلافات کے بعد انہوں نے 2021 کے اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
سویندو ادھیکاری کی بی جے پی میں آمد کے بعد پارٹی کی طاقت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 2021 میں بی جے پی نے صرف 3 نشستوں سے بڑھ کر 77 نشستیں حاصل کی تھیں، جبکہ اب پانچ سال بعد اسی حکمت عملی نے ممتا بنرجی کی 15 سالہ حکومت کا خاتمہ کر دیا۔
سویندو ادھیکاری نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز طلبہ سیاست سے کیا تھا۔ 2007 کی نندی گرام تحریک نے انہیں ریاستی سیاست میں ایک مضبوط چہرہ بنا دیا۔ وہ 2006 میں پہلی بار اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، بعد ازاں دو مرتبہ لوک سبھا پہنچے، جبکہ 2016 میں نندی گرام سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد ممتا حکومت میں وزیر ٹرانسپورٹ بھی رہے۔
