مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی ماحول کے درمیان ہندوستان کے لیے ایک بار پھر راحت بھری خبر سامنے آئی ہے۔ ایل پی جی سے لدا بحری جہاز “ایم وی سن شائن” کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز پار کر کے ہندوستان کی طرف روانہ ہو چکا ہے۔ حساس سمندری راستے سے اس جہاز کا محفوظ گزرنا ہندوستان کی توانائی سلامتی کے لیے ایک اہم پیش رفت مانا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ہندوستانی بحریہ مسلسل اس جہاز کی نگرانی کر رہی ہے اور اسے مکمل سیکورٹی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ راستے میں کسی بھی خطرے سے بچایا جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ 15واں ایل پی جی بردار جہاز ہے جسے موجودہ کشیدہ حالات کے باوجود محفوظ طریقے سے خلیج فارس سے باہر نکالا گیا ہے۔
India-bound LPG tanker MV Sunshine crossing Strait of Hormuz; Indian Navy, agencies provide all support: Sources
Read @ANI Story I https://t.co/KaEKRHZDTm#StraitofHormuz #MVSunshine #IndianNavy #LPGTanker pic.twitter.com/34qgybjuWJ
— ANI Digital (@ani_digital) May 13, 2026
مرکزی وزیر برائے پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے توانائی سپلائی کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے بروقت اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں گھریلو ایل پی جی پیداوار بھی بڑھائی گئی ہے تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب ایران کی طرف سے بھی نرم اشارے سامنے آئے ہیں۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ اگر خطے میں امن قائم رہتا ہے تو آبنائے ہرمز پہلے سے زیادہ محفوظ اور مستحکم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائے گا۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے حساس سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ایسے حالات میں ہندوستان کی مسلسل توانائی سپلائی کو برقرار رکھنا حکومت اور بحریہ کی بڑی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔
