حیدرآباد میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کو درپیش عالمی معاشی چیلنجز اور جنگی حالات پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اور یوکرین میں جاری جنگوں کے باعث پوری دنیا شدید معاشی دباؤ، مہنگائی اور سپلائی چین کے بحران سے گزر رہی ہے، جس کے اثرات ہندوستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آنے والے وقت کو دیکھتے ہوئے احتیاطی طرزِ زندگی اپنائیں۔ انہوں نے خاص طور پر ایندھن کی بچت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے ہر شہری کو غیر ضروری سفر کم کرنا چاہیے اور وسائل کا محتاط استعمال کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو غیر ملکی کرنسی بچانے کی ضرورت ہے، جس کے لیے عوامی تعاون انتہائی ضروری ہے۔
اپنی تقریر میں مودی نے لوگوں سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ اگلے ایک سال تک شادیوں یا دیگر تقریبات کے لیے سونا خریدنے سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات میں فضول خرچی سے بچنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کووڈ-19 کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک نے آن لائن میٹنگز، گھر سے کام اور محدود اخراجات جیسے نظام اپنا کر مشکل حالات کا مقابلہ کیا تھا، اور اب دوبارہ اسی طرزِ فکر کو اپنانے کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک بڑے معاشی اور تجارتی بحران کے دور سے گزر رہی ہے۔ یوکرین جنگ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت گزشتہ کئی برسوں سے ان حالات سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہے اور کسانوں سمیت عوام کو راحت دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مودی نے اپنی حکومت کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں کھاد کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں، لیکن حکومت کسانوں کو سبسڈی دے کر کم قیمت پر کھاد فراہم کر رہی ہے تاکہ زرعی شعبہ متاثر نہ ہو اور کسانوں پر بوجھ کم رہے۔
