عیدالاضحیٰ سے قبل مغربی بنگال حکومت نے قربانی اور جانوروں کے ذبیحہ سے متعلق نئی گائیڈلائنس جاری کر دی ہیں، جن کے بعد ریاست میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اب کھلے مقامات، سڑک کنارے یا عوامی جگہوں پر کسی بھی جانور کی قربانی کی اجازت نہیں ہوگی، اور صرف منظور شدہ مقامات پر ہی ذبیحہ کیا جا سکے گا۔
نئے ضابطوں کے مطابق گائے، بھینس، بیل اور بچھڑوں کی قربانی کے لیے سرکاری سرٹیفکیٹ لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ مقامی نگر پالیکا یا پنچایت کے افسر اور سرکاری ویٹرنری ڈاکٹر کی مشترکہ منظوری کے بعد جاری ہوگا۔ اگر کسی شخص کو سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کیا جاتا ہے تو وہ مقررہ مدت کے اندر ریاستی حکومت سے شکایت درج کرا سکتا ہے۔
حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ قربانی صرف سرکاری طور پر منظور شدہ بوچڑخانوں میں ہی کی جا سکتی ہے۔ جاری اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں جرمانہ اور قید دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد عوامی نظم و نسق، صفائی ستھرائی اور قانونی نظام کو برقرار رکھنا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں اور کچھ سماجی تنظیموں نے ان ضابطوں پر سوال اٹھائے ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلے عدالت کی ہدایات اور ریاست میں قانون کی عملداری کو مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
