بمبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بینچ نے اورنگ آباد تا احمد نگر قومی شاہراہ 753-F کی خراب حالت پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام اور ٹھیکیداروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ عدالت نے مون سون سے قبل فوری مرمت کا حکم دیتے ہوئے غیر معیاری کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
عدالت نے سماعت کے دوران کہا کہ شاہراہ کی حالت دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سڑک پر بادل پھٹ پڑے ہوں۔ کئی مقامات پر گہرے گڑھے موجود ہیں، جس سے حادثات کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
بنچ نے کہا کہ 41 کلومیٹر کے راستے میں تقریباً 18 کلومیٹر حصہ انتہائی خستہ حال ہو چکا ہے اور عوام کی جان خطرے میں ڈالی جا رہی ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ مون سون شروع ہونے سے پہلے ہر حال میں سڑک کی مکمل مرمت کی جائے۔
ہائی کورٹ نے یہ بھی واضح کیا کہ گڑھوں کو صرف عارضی طور پر بھرنے کے بجائے مناسب لیولنگ اور معیاری تعمیراتی اصولوں کے مطابق کام کیا جائے تاکہ بارش کے دوران سڑک دوبارہ خراب نہ ہو۔
عدالت نے محکمہ تعمیرات عامہ کے اعلیٰ افسران کو ہدایت دی کہ وہ 9 جون تک تفصیلی حلف نامہ جمع کریں جس میں مرمت کی پیش رفت اور باقی کاموں کی مکمل رپورٹ شامل ہو۔
شہریوں نے بھی سڑک کی خراب حالت پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آئے دن حادثات پیش آ رہے ہیں اور سفر انتہائی خطرناک بن چکا ہے۔ عدالت کے سخت رویے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ شاہراہ کی حالت میں جلد بہتری آئے گی۔
