مغربی ایشیا میں جاری جنگی کشیدگی نے عالمی معیشت اور سپلائی نظام کو شدید متاثر کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے باعث تیل، گیس اور ضروری اشیا کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے، جس کا اثر ہندوستان سمیت کئی ممالک پر پڑ رہا ہے۔ اسی درمیان ایران نے موجودہ بحران کے لیے امریکہ اور اسرائیل کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ اس پر مسلط کی گئی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ 28 فروری سے پہلے آبنائے ہرمز مکمل طور پر محفوظ اور تمام ممالک کے لیے کھلی تھی، لیکن امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں نے خطے کے حالات خراب کر دیے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض خلیجی ممالک کی سرزمین استعمال کر کے ایران کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد تہران کو اپنے دفاع میں اقدامات کرنے پڑے۔
بقائی کے مطابق ایران نے بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کارروائی کی تاکہ حملہ آور قوتیں آبی گزرگاہ کا غلط استعمال نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران خود بھی آبنائے ہرمز پر سب سے زیادہ انحصار کرتا ہے، اس لیے وہ اس خطے میں امن اور سلامتی چاہتا ہے۔
دوسری جانب امریکہ نے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے عالمی بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ایرانی منی لانڈرنگ اور تیل اسمگلنگ نیٹ ورک پر سخت نظر رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ واشنگٹن کا الزام ہے کہ ایران شیل کمپنیوں اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے پابندیوں سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کی کوششیں انتہائی نازک مرحلے میں ہیں۔ انہوں نے تہران کی امن تجاویز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مزید سخت اقدامات کا اشارہ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ اب عراق، متحدہ عرب امارات اور عمان جیسے ممالک پر بھی دباؤ بڑھا رہا ہے تاکہ ایران کی اقتصادی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے۔
