از قلم عبید الرحمن ثمر قاسمی خادم دار العلوم اسعدیہ جدید ایکڑخورد ہردوار اتراکھنڈ
قارئین کرام عید الاضحٰی جسے آپ اور ہم بقرعید کے نام سے جانتے ہیں یہ انبیاء کرام علیہم السلام میں سے دوحضرت ابراہیم و اسماعیل علیہا السلام ،دو جلیل القدر پیغمبروں کے امتحان اورعظیم الشان قربانی کا نتیجہ ہے، یہ قربانی، اطاعت شعار باپ اور بیٹے کے جاں گسل امتحان کا، کام یاب رزلٹ ہے ، جو قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے اطاعت و بندگی کا سبق آموز واقعہ فداکاری اور جاں شماری کا حسین نمونہ اور وفاشعاری کے حوالے سے ایک لازوال اور فکر انگیز داستان ہے۔
اللہ تعالیٰ کو ان حضرات کی اطاعت شعاری وخم نیازی ،امتحان خدا وندی کی تیاری اور اس کی شاندار کامیابی سے اتنی خوشی ہوئی ،کہ قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے اس سنت ابراہیمی کو زندہ اور باقی رکھنے کا حکم دیا گیا۔
یہ قربانی جس عظیم واقعہ کی یادگار ہے وہ مختصراً اس طرح سے ہے* اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں اپنے نورنظر،لخت جگر،لاڈلے اور پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کےذبح کا حکم دیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سرتسلیم خم کرتے ہوئے حضرت اسماعیل کو یہ پیغام سنایا، اور کہا “*يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تری* “ اے میرے پیارے، اے ہاجرہ کے جگر پارے ، میں نے خواب دیکھا ہے، کہ راہ خدا میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اللہ کے راستے میں تمہیں قربان
کر رہا ہوں ، تمہارا کیا خیال ہے؟ غور و فکر کر لو تمہاری کیا رائے ہوتی ہے۔
قارئین کرام! کلیجے پہ ہاتھ رکھ کر سوچیں اور قربان جائیے اس فدا کاری اور جاں نثاری پر ، عبرت حاصل کیجیے، باپ بیٹے کی اس اطاعت شعاری سے، دوستو!معلوم ہے آپ کو؟ حضرت اسماعیل نے کیا خوب جواب دیا تھا؟ انھیں معلوم تھا کہ ہمارے والد نبی ہیں اور نبی کا خواب بھی سچا ہوا کرتا ہے، انتہائی وقار وسکون کے ساتھ فرمایا “*يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ* اے ابا جان! آپ میری رائے کیوں معلوم کر رہے ہیں؟ اللہ نے جو آپ کو حکم دیا ہے ، اسے کر گذریے، اللہ کے حکم کم کی تعمیل کیجیے اور رہا میرا مسئلہ تو : *سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّابِرِينَ* “ میں اف تک نہیں کروں گا ، ان شاء اللہ آپ مجھے صابر و شاکر
پائیں گے۔ انشاءاللہ
سعادت مند بیٹا جھک گیا، فرمانِ باری پر
زمین و آسماں حیراں تھے، اس طاعت گزاری پر
عجب بشاش تھےدونوں ضائے رب عزت پر
تامل یا تذبذب کچھ نہ تھا، دونوں کی صورت پر
حضرت ابراہیم اپنے وفا شعار بیٹے کا جواب سن کر مطمئن ہو گئے ، اور حضرت اسماعیل کو لے کر قربان گاہ کی طرف روانہ ہو گئے ، ادھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نکلے، اور اُدھر شیطان حضرت ہاجرہ کے پاس پہنچا اور حضرت ابراہیم کے خلاف انھیں بھڑکانا چاہا، بیٹے کی قربانی کا حوالہ دے کر، اُن کے دل میں حضرت ابراہیم کے متعلق نفرت و کدورت پیدا کرنے کی کوشش کی مگر جب وہاں سے ناکام ہوا، تو حضرت ابراہیم کے پاس پہنچا اور کہنے لگا:
میاں کہاں جارہے ہو؟
بیٹے کو قربان کرنے ؟
ذرا غور تو کرو! بھلا کوئی باپ اپنے بیٹے کو قتل بھی کرتا ہے، یہ اللہ کا کیسا حکم ہے ؟دنیا میں آج تک کسی کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟
حضرت ابراہیم فورا سمجھ گئے کہ یہ کم بخت شیطان ہے، اور ہمیں اس امتحان میں نا کام کرانا چاہتا ہے، پتھر اٹھا کر اسے مارا، شیطان نے پھر آ کر بہکانا چاہا ، حضرت ابراہیم نے دوبارہ پتھر مارا، پھر وہ بہکانے آیا اور اس تیسری بار بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے مار بھگایا، اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کے اس کی عمل کو قیامت تک کے لیے زندہ اور باقی رکھا ، حاجیوں سے پوچھیے ! آج بھی انہیں رمی جمار کرنی پڑتی ہے۔
*بہر حال*!حضرت ابراہیم مقام ذبح پر پہنچ گئے، حضرت اسماعیل کو لٹایا ، اورچھری تیز کرنے لگے، مسلمانوں عجیب سماں تھا وہ:
زمین بھی خاموش تھی ،آسمان بھی ساکت تھا، چرند اور پرند خاموش تھے،
ہواؤں نے چلنا بند کر دیا تھا،کلیوں نے چہچہانا چھوڑ دیا تھا،ساری مخلوق حیران و ششد ر تھی، کہ کیا ہونے جا رہا ہے؟
*ز میں سہمی پڑی تھی آسماں ساکت تھا بے چارہ*
*نہ اس سے پیشتر دیکھا تھا یہ حیرت کا نظارہ*
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی ، کہ کہیں آخری وقت میں بیٹے کی محبت اس کام سے روک نہ دے، اور حضرت اسماعیل کے گلے پر چھری رکھ دی ، اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل کی جگہ ، مینڈھا وہاں :رکھوا دیا اور چھری اس کے حلق پر چلی ، قرآن نے اسی امتحان کا نقشہ کھینچتے ہوئے اعلان کیا: “*فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِين* جب باپ بیٹے نے ہمارے حکم کے آگے سر تسلیم خم کر دیا، اور حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا، “*وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْراهِيمَ ، قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا* تو ہم نے آواز لگائی کہ اے ابراہیم ! تم نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ، اس عظیم امتحان میں بھی تم نے کام یابی حاصل کی “*إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِئُ الْمُحْسِنِينَ*“ بھلائی کرنے والوں کے لیے ہمارے یہاں ایسا ہی بدلہ ہے، اچھائی کرنے والوں کو ہم اسی طرح انعام و اکرام سے نوازتے ہیں، اور اتنا ہی نہیں ؛ بلکہ دوستو آج ہم اور آپ امتحان دیتے ہیں ہمارے بچے امتحان دیتے ہیں
مدرسے کے طلبہ امتحان دیتے ہیں
اگر امتحان سخت ہوتا ہے تو ہمارے بچے کہتے ہیں، کہ امتحان مشکل تھا ، اسکول کے لڑکے کہتے ہیں ، امتحان سخت تھا، لیکن قربان جائیے اس امتحان ابراہیمی کی عظمت و رفعت پر ، اندازہ لگائیے اس امتحان کی سختی کا، یہاں تو خود امتحان لینے والا (اللہ تعالیٰ)یہ کہ رہا ہے “إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ “ کہ یہ تو بڑا واضح امتحان تھا، بڑا مشکل پرچہ تھا ، جسے ابراہیم نے پورا کر دکھایا۔
*میری نگاہ نے جھک جھک کے کر دیئے سجدے*
*جہاں جہاں سے تقاضائے حسن یار ہوا*؟
یہ ہماری قربانی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اُسی قربانی کا نتیجہ ہے، جو اُس وقت سے لےکر آج تک امت مسلمہ کا شعار رہا ہے،اور قیامت تک رہے گا انشاءاللہ ۔
صحابہ کرام نے اس قربانی کے متعلق حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم کیا تھا “*مَا هِيَ الْأَضَاحِي يَا رَسُولَ اللهِ*” اے اللہ کے رسول، یہ جو ہم قربانی کرتے ہیں ، جانوروں کا خون بہاتے ہیں ، اس کی حقیقت کیا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا *”هِيَ سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيم**“ یہ تمہارے بزرگ باپ حضرت ابراہیم کی سنت ہے ، صحابہ نے پھر پوچھا *”مَا لَنَا فِيهَا*” اے اللہ کے نبی ہمیں اس میں کیا ملے گا؟ آپ نے فرمایا *لِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ* جانور کے ہر بال کے بدلے تمہیں ایک نیکی ملے گی ۔
روایتوں میں آتا ہے کہ عید الاضحی کے دن، ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے یہاں قربانی سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول علیہ الصلاۃ والسلام ہمیشہ قربانی فرماتےرہے، اور پوری امت کو یہ حکم دیا ہے کہ اگر ان کے پاس وسعت ہو، مال کی فراوانی ہو تو وہ ضرور قربانی کیا کریں، اپنی طرف سے بھی کریں ، اپنے اہل وعیال کی طرف سے بھی کریں۔
خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر قربانی کا جانور ذبح کرنےکے بعد یہ دعا پڑھی “*اللهُمَّ هَذِهِ عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحَ مِنْ أُمَّتِي* ” اےاللہ ! یہ قربانی میری طرف سے بھی ہے۔
اور میری امت کے غریبوں کی طرف سے بھی ہے۔میری امت کے فقراء اور محتاجوں کی طرف سے بھی ہے۔اے اللہ میری اس قربانی کو میری امت کے ناداروں اور مفلسوں کی طرف سے بھی قبول فرما۔
اس لیے اے مسلمانو! ہم بھی قربانی کریں اور شوق کریں، پورے اخلاص وللہیت کے ساتھ کریں، اور قرآن کی اس آیت پر یقین رکھیں کن يَّنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ کہ اللہ کے دربار میں ہماری قربانیوں کا گوشت نہیں پہنچتا ، قربانی کا خون اللہ کے وہاں نہیں جاتا ، اللہ تو ہمارے تقوے کو دیکھتے ہیں ، ہمارے اخلاص اور دل کو دیکھتے ہیں، اللہ کی بارگاہ میں ہماری نیت دیکھی جاتی ہے۔
مسلمانو! قربانی کے بے شمار فضائل ہیں، قربانی کرنے پر اللہ نے بہتر ثواب اور اچھا بدلہ دینے کا وعدہ فرمایا ہے، اللہ کے رسول علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں “سَمِنُوا ضَحَايَاكُمْ فَإِنَّهَا عَلَى الصِّرَاطِ مَطَايَاكُمْ اے لوگو! قربانی کے جانور کو خوب کھلاؤ، اس کی دیکھ ریکھ کرو، اسے کھلا پلا کر خوب موٹا کرو؛ اس لیے کہ کل قیامت کے دن ، صراط کے بار یک پل پر یہ تمہاری سواریاں ہوں گی ، ان پر بیٹھ کر آسانی سے تم یہ مشکل پل پار کر لو گے ۔
مگر ہم سب قربانی کرنے میں اپنے برادران اسلام خصوصاً برادران وطن کی عزت وآبرو خیال رکھیں کہ ہمارے قربانی کے عمل کسی کو بھی ذرہ برابر بھی تکلیف نہ پہنچے،اللہ تعالیٰ ہم سب پورے ملک میں امن و امان کے ساتھ قربانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام مذاہب کے لوگوں کو پہلے کی طرح پیارو محبت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
