عید الاضحیٰ کے موقع پر امن، قانون کی پابندی اور سماجی ذمہ داری کے ساتھ قربانی کرنے کی اپیل قربانی کی تصاویر و ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپلوڈ نہ کرنے اور اصلاحِ معاشرہ مہم کو مزید فعال بنانے پر زور
مظفرنگر (پریس ریلیز)جمعیۃ علماء ضلع مظفرنگر کی تمام یونٹوں کے ذمہ داران کی ایک اہم مشاورتی میٹنگ امبا وہار واقع مدینہ گارڈن میں ضلع صدر مولانا مکرم علی قاسمی کی صدارت اور مولانا عبدالخالق قاسمی کی نظامت میں منعقد ہوئی۔ اجلاس میں آنے والی عید الاضحیٰ کے پیش نظر مختلف سماجی، مذہبی، عوامی بیداری، اصلاحی اور تنظیمی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور تمام یونٹوں کو ضروری ہدایات جاری کی گئیں۔میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ضلع صدر مولانا مکرم علی قاسمی نے کہا کہ عید الاضحیٰ قربانی، ایثار، بھائی چارہ اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا عظیم تہوار ہے۔ اس مبارک موقع پر تمام مسلمانوں کو شریعت اور ملک کے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قربانی کا فریضہ انجام دینا چاہیے۔ انہوں نے خاص طور پر تاکید کی کہ قربانی کے وقت کسی بھی قسم کی تصویر یا ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ نہ کی جائے، کیونکہ اس سے معاشرے میں غلط پیغام جاتا ہے اور بعض شرپسند عناصر ماحول خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی مذہبی ذمہ داریوں کو سنجیدگی، حکمت اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں اور اپنے پڑوسیوں و دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے جذبات کا بھی مکمل خیال رکھیں۔ انہوں نے تمام یونٹوں کے ذمہ داران سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں عوامی بیداری مہم چلائیں اور عید الاضحیٰ کو امن، بھائی چارے، صفائی ستھرائی اور قانون کی پابندی کے ساتھ منانے کا پیغام عام کریں۔

مولانا مکرم علی قاسمی نے تنظیم کو مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیتے ہوئے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کی فکر ہمیشہ ملک میں بھائی چارہ، انصاف، دستور کے تحفظ اور سماجی خدمت کی رہی ہے۔ اس لیے ہر قصبہ، گاؤں اور وارڈ سطح تک تنظیم کو مزید فعال بنایا جائے اور نئی یونٹیں قائم کرکے نوجوانوں اور ذمہ دار افراد کو جمعیۃ علماء سے جوڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط تنظیم ہی سماج کے مسائل کو مؤثر انداز میں اٹھانے اور عوام کی بہتر رہنمائی کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔اسی دوران مولانا سہیل اختر رحیمی کنوینر اصلاحِ معاشرہ کمیٹی جمعیۃ علماء ضلع مظفرنگر نے تمام تحصیلی و شہری یونٹوں کی اصلاحِ معاشرہ سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے مختلف علاقوں میں جاری اصلاحی سرگرمیوں، عوامی بیداری پروگراموں، نوجوانوں کی رہنمائی، نشہ کے خلاف مہمات اور سماجی برائیوں کے خاتمہ کے لیے کیے گئے اقدامات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اصلاحِ معاشرہ کے لیے نئے عزائم اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر بھی روشنی ڈالی۔ اجلاس میں اس رپورٹ کو سراہتے ہوئے اصلاحی سرگرمیوں کو مزید مؤثر اور منظم انداز میں جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔میٹنگ میں آئندہ مردم شماری کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔ ذمہ داران نے عوام سے اپیل کی کہ مردم شماری کے دوران صحیح اور مکمل معلومات فراہم کریں، کیونکہ مردم شماری ملک کی ترقی، وسائل کی تقسیم اور سرکاری منصوبہ بندی سے جڑا ایک اہم معاملہ ہے۔ یونٹوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ عوام میں بیداری پیدا کریں اور مردم شماری کے عمل میں تعاون کا ماحول تیار کریں۔

اجلاس میں ذمہ داران نے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی صاحب کی جانب سے گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبہ کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ ہند کو اس سلسلہ میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں باہمی ہم آہنگی اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ممنوعہ جانوروں کی قربانی سے مکمل اجتناب کیا جائے اور ہر حال میں قانون کی پابندی کی جائے۔اجلاس میں سماجی اصلاحی پروگراموں کو مزید فعال بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ تعلیمی بیداری، سماجی برائیوں کے خاتمہ، باہمی بھائی چارے کے فروغ اور نوجوانوں کو مثبت سمت دینے کے لیے جمعیۃ علماء ہند کی یونٹیں گاؤں گاؤں اور محلوں تک اصلاحی پروگرام منعقد کریں گی۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ عید الاضحیٰ کے دوران صفائی ستھرائی اور ماحولیات کا خصوصی خیال رکھا جائے گا اور قربانی کی آلائشوں کو مقررہ مقامات پر ہی ڈالا جائے گا تاکہ کسی قسم کی پریشانی پیدا نہ ہو۔

اجلاس میں موجود ذمہ داران نے تنظیم کو مزید فعال اور مضبوط بنانے کا عہد کیا اور عید الاضحیٰ کو امن، بھائی چارے، سماجی ذمہ داری اور مذہبی اقدار کے ساتھ منانے کا پیغام دیا۔اجلاس میں مولانا احمد، مفتی تنمیق، حاجی عزیز الرحمن، محمد آصف قریشی بڈھانوی، مفتی نشاط، حاجی شرافت علی، مولانا خالد، مفتی آزاد، مولانا سنور قاسمی، مولانا مونس، مولانا عبد القیوم قاسمی، مفتی نوید، قاری مظفر اللہ، مولانا شاہنواز، مولانا شاہ عالم، مولانا اسرائیل، مولانا صادق، حافظ تحسین، مولانا سہیل اختر رحیمی، مولانا عبداللہ وغیرہ موجود رہے۔
