سعودی عرب نے حج 2026 کی تیاریوں کے سلسلے میں سکیورٹی، ٹرانسپورٹ اور انتظامی منصوبوں پر عمل درآمد مزید تیز کر دیا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ حج کے مقدس اجتماع کو ہر قسم کی سیاسی سرگرمی اور تنازع سے محفوظ رکھا جائے گا، جبکہ حجاج کرام کے تحفظ اور سہولت کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حجاج کے امن، سلامتی اور بہتر سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط حکمت عملی کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
سعودی وزیر داخلہ اور سپریم حج کمیٹی کے چیئرمین شہزادہ عبدالعزیز بن سعود نے مکہ مکرمہ میں حج سکیورٹی فورسز کی سالانہ تقریب کے دوران انتظامی اور زمینی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ہجوم کے نظم و نسق، سکیورٹی اقدامات اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔
پبلک سکیورٹی کے ڈائریکٹر اور حج سکیورٹی کمیٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد البسامی نے کہا کہ حجاج کی خدمت اور ان کی سہولت کے لیے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برسوں کے تجربات اور مختلف ممکنہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اس سال کے منصوبے مرتب کیے گئے ہیں، تاکہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، مقدس مقامات اور حجاج کے سفری راستوں پر سکیورٹی اور سہولت کے انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
حکام کے مطابق جدید حج سکیورٹی نظام کو نئی ٹیکنالوجی، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور مربوط آپریشنل نظام سے مضبوط بنایا گیا ہے۔ اس کے ذریعے فوری فیصلہ سازی، اداروں کے درمیان بہتر رابطہ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت میں مزید اضافہ کیا گیا ہے۔سعودی حکام نے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا کہ حج کو سیاست سے جوڑنے، حجاج کے امن میں خلل ڈالنے یا مناسک حج کی ادائیگی کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حج کی روح اور اس کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
سکیورٹی فورسز کی سالانہ تقریب کے دوران فیلڈ مشقوں کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں جدید سکیورٹی گاڑیوں، نگرانی کے نظام اور سکیورٹی ایوی ایشن سے متعلق تیاریوں کا عملی مظاہرہ پیش کیا گیا تاکہ حج سیزن کے دوران مؤثر انتظام اور فوری ردعمل کو یقینی بنایا جا سکے۔دوسری جانب مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات کے رائل کمیشن کے جنرل ٹرانسپورٹ سینٹر میں بھی انتظامی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا، جہاں ڈیجیٹل تبدیلی، مصنوعی ذہانت پر مبنی نظام اور لائیو ڈیٹا کے ذریعے نقل و حمل کو مزید بہتر بنانے کے منصوبوں کا معائنہ کیا گیا۔
