گوتم بدھ نگر کی سائبر کرائم پولیس نے ایک منظم سائبر فراڈ نیٹ ورک کا پردہ فاش کرتے ہوئے تین افراد کو گرفتار کیا ہے، جو جعلی کمپنیوں کے نام پر بینکوں میں کرنٹ اکاؤنٹس کھلوا کر ملک بھر میں ہونے والی سائبر دھوکہ دہی کی رقم کو مختلف کھاتوں کے ذریعے منتقل کرتے تھے۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان جعلی کاروباری دستاویزات اور فرضی کمپنیوں کا سہارا لے کر متعدد بینک اکاؤنٹس تیار کرتے تھے۔ بعد ازاں انہی اکاؤنٹس کے ذریعے سائبر جرائم سے حاصل ہونے والی رقم کو مختلف مقامات پر منتقل کرکے اسے قانونی لین دین کا روپ دینے کی کوشش کی جاتی تھی۔سائبر کرائم تھانے کی ٹیم نے 22 مئی کو خفیہ اطلاعات اور تکنیکی نگرانی کی بنیاد پر نوئیڈا کے سیکٹر 44 میں کارروائی کرتے ہوئے تین افراد کو حراست میں لیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت اویناش جھا، ہمانشو کمار اور جتیندر دہیا عرف آشو کے طور پر کی گئی ہے، جو دہلی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
تحقیقات کے دوران ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ کئی فرضی کمپنیاں بنا چکے تھے اور انہی کمپنیوں کے نام پر مختلف بینکوں میں اکاؤنٹس کھلوائے گئے تھے۔ ان کھاتوں کا استعمال سائبر جرائم سے حاصل شدہ رقوم کی وصولی، منتقلی اور مشکوک مالی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے کیا جاتا تھا۔
ابتدائی جانچ میں ان اکاؤنٹس سے کروڑوں روپے کے مشتبہ لین دین کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کرناٹک، پنجاب اور جموں و کشمیر سمیت مختلف ریاستوں میں بھی ان ملزمان کے خلاف سائبر فراڈ سے متعلق متعدد شکایات درج ہیں۔
حکام اس پورے گینگ کے دیگر ارکان اور اس نیٹ ورک میں استعمال ہونے والے مزید بینک اکاؤنٹس کی جانچ میں مصروف ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے پانچ موبائل فون، 2800 روپے نقد، ایک مہر اور کئی اہم دستاویزات بھی برآمد کیے ہیں۔
ملزمان کے خلاف گوتم بدھ نگر سائبر کرائم تھانے میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 66 ڈی کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
