ملک میں ایک بار پھر بابری مسجد اور عبادت گاہ قانون سے متعلق بحث نے زور پکڑ لیا ہے۔دارالحکومت میں ایک اہم پروگرام کے دوران اس موضوع پر ایک تفصیلی تحقیقی رپورٹ پیش کی گئی۔اس پروگرام میں ملک کے معروف قانون دان، سابق جج صاحبان اور کئی اہم شخصیات شریک ہوئیں۔
شرکاء نے اس معاملے کو صرف ایک مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ آئینی اور قانونی مسئلہ قرار دیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ عبادت گاہ قانون ملک میں مذہبی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اس قانون کا مقصد یہ ہے کہ پرانے مذہبی تنازعات کو دوبارہ زندہ نہ کیا جائے۔رپورٹ میں عدالت کے سابق فیصلوں کا بھی تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔ماہرین کا کہنا تھا کہ بعض فیصلوں نے بعد کے معاملات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ملک کی یکجہتی کو برقرار رکھنے کے لیے آئین کی روح پر عمل ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ مذہبی معاملات کو سیاسی مفادات سے دور رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس موقع پر یہ بھی کہا گیا کہ اختلافات کا حل عدالتوں کے ساتھ ساتھ مکالمے سے بھی تلاش کیا جانا چاہیے۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ انصاف سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔کئی مقررین نے مذہبی مقامات کے تحفظ پر بھی بات کی۔انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی ملک کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔قانونی ماہرین نے خبردار کیا کہ حساس معاملات میں احتیاط ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر ضروری تنازعات ملک کے ماحول پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
اس موقع پر باہمی اعتماد بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔مقررین نے کہا کہ ملک کی ترقی اتحاد اور امن میں پوشیدہ ہے۔لوگوں نے اس پروگرام کو اہم قرار دیا۔کئی حلقوں میں اس رپورٹ پر گفتگو جاری ہے۔توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر مزید بحث ہوگی۔
