علی الصبح ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ریل سفر کرنے والے ہزاروں لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیا۔ ملک کی اہم ٹرینوں میں شمار ہونے والی راجدھانی ایکسپریس اچانک حادثے کا شکار ہوگئی اور ایک کوچ میں آگ بھڑک اٹھی۔
اس وقت زیادہ تر مسافر گہری نیند میں تھے اور اپنے اپنے بستروں پر آرام کر رہے تھے۔ کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ چند لمحوں بعد پورے ڈبے میں خوف کا ماحول پیدا ہونے والا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق اچانک کوچ کے اندر دھواں بھرنا شروع ہوگیا۔ ابتدا میں کچھ مسافروں کو لگا کہ شاید کوئی معمولی مسئلہ ہے، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے صورتحال سنگین ہوگئی۔جیسے ہی دھواں زیادہ پھیلنے لگا تو مسافروں میں بے چینی پیدا ہوگئی۔ کچھ لوگ اپنی نشستوں سے فوراً اٹھ کھڑے ہوئے جبکہ کئی مسافر خوف کی وجہ سے سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ کیا کریں۔
خواتین، بچوں اور بزرگوں میں سب سے زیادہ پریشانی دیکھی گئی۔ ہر طرف چیخ و پکار سنائی دینے لگی۔
ٹرین کے عملے نے فوراً صورتحال کو قابو میں لینے کی کوشش شروع کردی۔ مسافروں کو پرسکون رہنے کی ہدایت دی گئی۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں حرکت میں آگئیں۔ریلوے حکام نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ کوچ کو خالی کروایا۔مسافروں کو بحفاظت دوسرے ڈبوں میں منتقل کیا گیا۔حادثے کے بعد پورے علاقے میں ریل آمدورفت متاثر ہوگئی۔کئی ٹرینوں کی رفتار کم کردی گئی جبکہ کچھ ٹرینوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔
حکام کے مطابق ابتدائی جانچ میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آگ بجلی کے نظام میں خرابی کے باعث لگی۔تاہم اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے مکمل تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔سب سے بڑی راحت کی بات یہ رہی کہ اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
مسافروں نے اسے اپنی زندگی کا خوفناک ترین لمحہ قرار دیا۔کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے کبھی ایسا منظر نہیں دیکھا۔
اس واقعے نے ایک بار پھر ٹرینوں میں حفاظتی نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حفاظتی انتظامات مزید سخت کیے جائیں۔حکام نے یقین دلایا ہے کہ معاملے کی مکمل جانچ ہوگی۔تمام حقائق سامنے لائے جائیں گے۔اور اگر کسی قسم کی غفلت پائی گئی تو سخت کارروائی ہوگی۔
