اتر پردیش میں آئے خوفناک طوفان، موسلادھار بارش اور آسمانی بجلی نے کئی خاندانوں کی خوشیاں چھین لیں۔ ریاست کے مختلف اضلاع میں اچانک بدلے موسم نے ایسی تباہی مچائی کہ دیکھتے ہی دیکھتے درخت جڑ سے اکھڑ گئے، بجلی کے کھمبے گر پڑے اور سیکڑوں مکانات کو نقصان پہنچا۔ اس قدرتی آفت میں 111 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 72 افراد زخمی ہوئے۔ حکومت کی جانب سے راحتی کام تیز کر دیے گئے ہیں، لیکن متاثرہ علاقوں میں خوف اور غم کا ماحول برقرار ہے۔
اس دردناک حادثہ پر دنیا بھر سے ہمدردی کے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ روسی صدر ولادمیر پوتن نے صدر دروپدی مرمو اور وزیر اعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ہونے والی اس تباہی کی خبر سن کر انہیں شدید افسوس ہوا ہے۔ پوتن نے مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔
متحدہ عرب امارات نے بھی ہندوستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ ابو ظبی سے جاری بیان میں یو اے ای کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں وہ ہندوستانی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ بیان میں حادثے کے متاثرین کے لیے ہمدردی اور تعاون کا یقین دلایا گیا۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے تمام اضلاع کے افسران کو فوری راحتی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں تک 24 گھنٹوں کے اندر مدد پہنچائی جائے۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں طبی ٹیمیں اور امدادی عملہ بھی روانہ کر دیا ہے۔
ریاست میں تباہی کے بعد لوگوں میں خوف پایا جا رہا ہے، کیونکہ کئی مقامات پر اب بھی بجلی اور پانی کی سپلائی متاثر ہے۔ محکمہ موسمیات نے اگلے چند دنوں تک محتاط رہنے کی ہدایت دی ہے۔
