امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ نے ایران کو ہتھیار فراہم نہ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور ایران کے معاملے پر دنیا کی نظریں چین اور امریکہ پر لگی ہوئی ہیں۔
ٹرمپ اس وقت چین کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے شی جن پنگ سے کئی اہم موضوعات پر بات چیت کی۔ امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ چین اب ایران کو فوجی ساز و سامان نہیں بھیجے گا، حالانکہ وہ ایران سے تیل خریدنا جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ عالمی حالات کے پیش نظر بہت اہم مانا جا رہا ہے۔
امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ہے اور ایران کی تیل برآمدات کا بڑا حصہ چین ہی خریدتا ہے۔ ایسے میں اگر چین واقعی فوجی تعاون کم کرتا ہے تو اس کا اثر پورے خطے کی سیاست پر پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے اس ملاقات کے دوران ایک اور بڑا دعویٰ بھی کیا۔ ان کے مطابق چین نے امریکی کمپنی بوئنگ سے 200 طیارے خریدنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اگر یہ معاہدہ مکمل ہوتا ہے تو امریکہ میں ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی خارجہ پالیسی ہمیشہ محتاط رہی ہے، اس لیے ٹرمپ کے دعوے کی حقیقت آنے والے دنوں میں واضح ہوگی۔ ابھی تک چین کی جانب سے اس بیان پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
