تمل ناڈو کے نومنتخب وزیر اعلیٰ تھلاپتی وجے نے اقتدار سنبھالتے ہی بڑا اور سخت فیصلہ لیتے ہوئے ریاست بھر میں مذہبی مقامات، اسکولوں، کالجوں اور بس اڈوں کے 500 میٹر دائرے میں موجود 717 سرکاری شراب دکانوں کو بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ حکومت نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے اندر اس فیصلے پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اس فیصلے کو عوامی مطالبات اور سماجی دباؤ کے تناظر میں اہم قدم مانا جا رہا ہے۔
Tamil Nadu Chief Minister C. Joseph Vijay on Tuesday ordered the closure of 717 government-run TASMAC liquor retail outlets located within a 500-meter radius of places of worship, educational institutions, and bus stations, within two weeks.https://t.co/Hmb9R051Ys
— businessline (@businessline) May 12, 2026
تمل ناڈو میں شراب کی دکانوں کا معاملہ طویل عرصے سے سیاسی اور سماجی بحث کا مرکز رہا ہے۔ عوام مسلسل مطالبہ کر رہے تھے کہ تعلیمی اداروں اور مذہبی مقامات کے قریب شراب فروخت پر پابندی عائد کی جائے، لیکن شراب سے حاصل ہونے والی بھاری آمدنی کے سبب سابق حکومتیں اس سلسلے میں مکمل اقدام نہیں کر پا رہی تھیں۔ ریاست میں اس وقت پانچ ہزار سے زائد شراب دکانیں ہیں، جن سے سالانہ تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے کا ریونیو حاصل ہوتا ہے۔
اس سے قبل 2023 میں ایم کے اسٹالن حکومت نے بھی شراب سے ہونے والی اموات کے بعد 500 دکانیں بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب وجے حکومت نے مزید سخت قدم اٹھاتے ہوئے حساس علاقوں میں موجود سینکڑوں دکانوں کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ وجے کی عوامی شبیہ مضبوط کرنے اور انتخابی وعدوں کو عملی شکل دینے کی بڑی کوشش مانا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ تھلاپتی وجے نے 10 مئی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کے فوراً بعد کئی عوامی اعلانات کیے تھے، جن میں 200 یونٹ مفت بجلی، خواتین کے لیے مفت بس سفر اور سابق حکومت کے مالی معاملات کی جانچ کے لیے وائٹ پیپر جاری کرنا شامل ہے۔
