نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) نے ملک بھر میں ہنگامہ برپا کرنے والے نیٹ یو جی 2026 پیپر لیک معاملے کے بعد بڑا فیصلہ لیتے ہوئے 3 مئی کو منعقد ہونے والا امتحان منسوخ کر دیا ہے۔ ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ امتحان دوبارہ منعقد کیا جائے گا، جبکہ نئی تاریخوں اور ایڈمٹ کارڈ سے متعلق تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔
این ٹی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امتحانی نظام کی شفافیت اور طلبہ کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کر دی ہیں، جبکہ مختلف مرکزی ایجنسیاں بھی اس کیس کی جانچ میں مصروف ہیں۔
ذرائع کے مطابق پیپر لیک کے شبہات اس وقت گہرے ہوئے جب امتحان سے قبل طلبہ کے درمیان ایک مبینہ ’گیس پیپر‘ گردش کرتا پایا گیا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس میں شامل کئی سوالات اصل امتحان سے لفظ بہ لفظ مطابقت رکھتے تھے۔ اسی بنیاد پر راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (SOG) نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے متعدد ریاستوں میں چھاپے مارے اور اب تک 45 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مبینہ سوالنامہ امتحان سے دو دن پہلے مخصوص طلبہ تک پہنچایا گیا تھا۔ جانچ ایجنسیاں اس امکان کا جائزہ لے رہی ہیں کہ سوالنامہ یا تو پرنٹنگ مرحلے میں لیک ہوا یا پھر پیپر سیٹ کرنے والے کسی شخص کی ملی بھگت سے باہر پہنچایا گیا۔
راجستھان ایس او جی کے مطابق مبینہ ’کویسٹن بینک‘ میں تقریباً 410 سوالات شامل تھے، جن میں سے بڑی تعداد اصل امتحان سے ملتی جلتی پائی گئی۔ اس معاملے کے تانے بانے ایک ایسے نوجوان سے بھی جوڑے جا رہے ہیں جو کیرالہ کے ایک میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کا طالب علم بتایا جا رہا ہے۔
نیٹ یو جی 2026 میں اس بار تقریباً 22 لاکھ طلبہ شریک ہوئے تھے۔ امتحان منسوخ ہونے کے بعد لاکھوں طلبہ اور والدین میں بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ اب سب کی نظریں نئی امتحانی تاریخوں اور سی بی آئی کی تحقیقات پر مرکوز ہیں۔
