نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے یمنا کے سیلابی میدان (فلڈ پلینز) کو ماحولیاتی طور پر انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے وہاں ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں، پارکنگ اور مذہبی اجتماعات پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت نے دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (DDA) کو ہدایت دی ہے کہ علاقے کے قدرتی ماحول کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے۔
جسٹس جسميت سنگھ کی سربراہی میں سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ زون-او کے تحت آنے والے ان علاقوں میں کسی بھی قسم کی پارکنگ یا تجارتی استعمال کی اجازت نہیں دی جا سکتی، چاہے وہ مذہبی یا سماجی تقریبات سے متعلق ہی کیوں نہ ہو۔ عدالت نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ یمنا کے فلڈ پلینز کو ان کی قدرتی حالت میں برقرار رکھنا ضروری ہے۔
عدالت نے ایک درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ متعلقہ مقام پر پارکنگ کے لیے دی گئی سابقہ اجازت منسوخ کیے جانے کے خلاف قانونی چیلنج پیش نہیں کیا گیا، اس لیے اس کی بحالی کا مطالبہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کو ہرجانے کے لیے علیحدہ دیوانی مقدمہ دائر کرنے کی اجازت دی۔
سماعت کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ زمین کے استعمال میں ابتدائی اجازت اور بعد میں اس کی منسوخی کے درمیان اختلافات پائے گئے تھے، جس پر عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ حقائق کی مزید جانچ کا متقاضی ہے اور رٹ پٹیشن میں اس کا فیصلہ ممکن نہیں۔
عدالت نے دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو مزید ہدایت دی کہ اگر کسی مذہبی موقع پر یمنا گھاٹوں پر آنے والے افراد کے لیے پارکنگ کی ضرورت پیش آئے تو سیلابی میدان سے باہر متبادل انتظام کیا جائے تاکہ ماحولیات کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔
یہ فیصلہ دہلی میں ماحولیاتی تحفظ اور شہری سرگرمیوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
