مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور بڑھتے اقتصادی دباؤ کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی کی عوام سے کفایت شعاری اپنانے کی اپیل پر شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند نے طنزیہ رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو سونا خریدنے اور پیٹرول-ڈیزل کے استعمال میں کمی کا مشورہ دینے سے پہلے حکومت کو خود مثال قائم کرنی چاہیے۔
سونبھدر میں اپنی ’گووِشٹ یاترا‘ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شنکراچاریہ نے کہا کہ جب امریکی ڈالر مسلسل مضبوط ہو رہا ہے اور ملک اقتصادی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے تو بچت کا آغاز اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پہلے مہنگے خصوصی طیاروں کے بجائے کم ایندھن خرچ کرنے والے طیاروں کا استعمال کرے، تب عوام کو نصیحت زیادہ مؤثر لگے گی۔
دراصل وزیر اعظم نریندر مودی نے حالیہ خطاب میں شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ موجودہ عالمی بحران کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کا محتاط استعمال کریں، غیر ضروری بیرون ملک سفر سے بچیں اور مقامی مصنوعات کو ترجیح دیں۔ انہوں نے پبلک ٹرانسپورٹ، الیکٹرک گاڑیوں اور ’میک اِن انڈیا‘ اشیا کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا تھا۔
وزیر اعظم نے کسانوں سے بھی کیمیائی کھاد کے استعمال میں کمی اور قدرتی کھیتی اپنانے کی اپیل کی تھی، جبکہ شمسی توانائی سے چلنے والے پمپ استعمال کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ شنکراچاریہ کے بیان کے بعد اس معاملے پر سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔
