تمل ناڈو میں معلق اسمبلی کے بعد سیاسی بے یقینی مزید بڑھ گئی ہے اور حکومت سازی کا معاملہ اب بھی الجھن کا شکار ہے۔ اداکار سے سیاست دان بننے والے Vijay کی پارٹی تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے) نے گورنر کے سامنے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کر دیا ہے، تاہم انہیں اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حالیہ اسمبلی انتخابات میں ٹی وی کے سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری اور اس نے 108 نشستیں حاصل کیں، لیکن 238 رکنی ایوان میں حکومت بنانے کے لیے درکار 118 ارکان کی تعداد تک پہنچنے میں پارٹی ابھی بھی پیچھے ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کے لیے وجے کی پارٹی کو کم از کم 10 مزید اراکین کی حمایت درکار ہوگی۔
اسی دوران دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) اور آل انڈیا انا دراوڑ منیترا کزگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) کے درمیان ممکنہ رابطوں کی خبریں سامنے آنے کے بعد ریاست کی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ ٹی وی کے حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اگر ڈی ایم کے یا اے آئی اے ڈی ایم کے حکومت بنانے کی کوشش کرتی ہیں تو پارٹی کے تمام 108 اراکین اسمبلی اجتماعی استعفیٰ دے سکتے ہیں۔
سیاسی مبصرین اس ممکنہ اقدام کو انتہائی جارحانہ حکمت عملی قرار دے رہے ہیں، جس سے ریاست میں سیاسی بحران مزید گہرا ہونے کا اندیشہ ہے۔ ٹی وی کے قیادت کو شبہ ہے کہ ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے وجے کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے پس پردہ اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈی ایم کے نے پارٹی سربراہ M. K. Stalin کو ہنگامی سیاسی فیصلے لینے کا مکمل اختیار دے دیا ہے۔
دوسری جانب ٹی وی کے اپنی عددی طاقت بڑھانے میں مصروف ہے۔ پارٹی رہنما سی ٹی آر کمار نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ایم ویراپانڈیان اور سی پی آئی (ایم) کے پی شانموگم سے ملاقات کر کے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وجے پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اقتدار میں شراکت داری ضروری ہے تاکہ اتحادی جماعتیں اپنی پالیسیوں اور نظریات پر عمل کر سکیں۔
ٹی وی کے نے انڈین یونین مسلم لیگ (IUML) سے بھی باضابطہ رابطہ کیا ہے اور حمایت کی درخواست ارسال کی ہے۔ پارٹی قیادت کو امید ہے کہ وہ جلد مطلوبہ اکثریت حاصل کر کے حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔
سی ٹی آر کمار نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹی وی کے کا نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) سے کوئی رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی پارٹی مستقبل میں ایسا کوئی قدم اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ادھر پانچ نشستیں حاصل کرنے والی کانگریس پہلے ہی ٹی وی کے کی حمایت کا اعلان کر چکی ہے۔
ٹی وی کے کا مؤقف ہے کہ آئینی روایت کے مطابق سب سے بڑی جماعت کو حکومت بنانے کا پہلا موقع ملنا چاہیے، اور چونکہ عوامی مینڈیٹ ان کے حق میں آیا ہے، اس لیے وجے کو وزیر اعلیٰ بننے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
