اورنگ آباد: ضلع پریشد کی تعمیراتی کمیٹی کے اجلاس میں دیہی ترقی اور تعلیمی سہولیات سے متعلق کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سب سے اہم فیصلہ اسکول کمروں کی تعمیر کے لیے مالی حد میں اضافہ کرنا رہا، جس کے تحت اب ایک کمرے کی تعمیر کے لیے 11 لاکھ کے بجائے 16 لاکھ روپے تک کی منظوری دی جا سکے گی۔
تعمیراتی کمیٹی کے چیئرمین سچن گراد کی صدارت میں منعقد اجلاس میں دیہی سڑکوں، ضلعی راستوں اور مذہبی مقامات سے متعلق جاری اور زیر التوا منصوبوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مختلف محکموں سے کاموں کی موجودہ صورتحال، بقایا جات اور منصوبوں کی پیش رفت کے بارے میں معلومات طلب کی گئیں۔
اجلاس میں افسران کو ہدایت دی گئی کہ آئندہ میٹنگ میں تمام زیر التوا واجبات اور ترقیاتی کاموں کی مکمل رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ضلعی سالانہ منصوبہ بندی مؤثر انداز میں کی جا سکے۔ اس کے ساتھ منسوخ شدہ منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور متعلقہ محکموں کو ضروری کارروائی کی ہدایت دی گئی۔
میٹنگ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ضلع پریشد کے تحت ہونے والے تمام تعمیراتی کام شفاف، معیاری اور شکایت سے پاک انداز میں مکمل کیے جائیں۔ کمیٹی نے تعمیراتی معیار اور ذمہ داری طے کرنے پر بھی خصوصی توجہ دینے کی بات کہی۔
حکام کے مطابق اسکول کمروں کی تعمیر کے لیے فنڈ میں اضافہ صرف عمارتوں کی تعمیر تک محدود نہیں ہوگا بلکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ بتایا گیا کہ ریاست کے کئی اضلاع میں پہلے ہی 16 لاکھ روپے کی حد نافذ ہے، اسی طرز پر اب ضلع میں بھی اس فیصلے کو منظوری دی گئی ہے۔
