واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی مہم میں امریکہ اور اسرائیل کو واضح برتری حاصل ہو چکی ہے اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر یہ تنازع آئندہ چند دنوں میں اپنے اختتام کو پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے عالمی توانائی کی ترسیل میں خلل ڈالنے کی کوشش کی تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔میامی میں واقع ٹرمپ نیشنل ڈورال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی، جسے “آپریشن ایپک فیوری” کا نام دیا گیا ہے، حالیہ برسوں کی بڑی فوجی مہمات میں شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ نو دنوں کے دوران انتہائی پیچیدہ اور طاقتور حملے کیے گئے جن سے ایران کے فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ان کارروائیوں میں ایران کی بحری قوت، ڈرون نظام اور میزائل لانچنگ کے کئی مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے درجنوں جنگی بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں جبکہ میزائل اور ڈرون صلاحیت میں بھی نمایاں کمی آ چکی ہے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ اب کارروائیوں کا رخ ایران کے ڈرون تیار کرنے والے مراکز کی جانب ہے اور ان مقامات کو ایک ایک کر کے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس فوجی مہم کے دوران اب تک پانچ ہزار سے زائد اہداف پر حملے کیے جا چکے ہیں جن میں اسلحہ کے ذخائر، میزائل لانچر اور دفاعی تنصیبات شامل ہیں۔ٹرمپ نے بتایا کہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے بھی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کیا اور زمین کے اندر چھپائے گئے میزائل لانچروں کو دو ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کے ذریعے تباہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کے امکانات کو بھی روک دیا گیا ہے۔
انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ یہ راستہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران نے ایسا کوئی قدم اٹھایا تو امریکہ مزید سخت اقدامات کرے گا۔امریکی صدر کے مطابق خلیج میں تیل بردار جہازوں کی حفاظت کے لیے امریکہ سیاسی خطرات کے بیمہ کی سہولت بھی فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اس تنازع کے دوران اب تک امریکہ کے آٹھ فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے جس میں یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
