پٹنہ: بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے راجیہ سبھا جانے کی خبروں کے درمیان پہلی بار اپنا ردعمل دیا ہے۔ جمعرات (5 مارچ) کو انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی زندگی کے آغاز سے ہی ان کی یہ خواہش رہی ہے کہ وہ بہار قانون ساز مجلس کے دونوں ایوانوں کے ساتھ ساتھ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے بھی رکن بنیں۔اپنی پوسٹ میں نتیش کمار نے لکھا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے بہار کے عوام نے ان پر جو اعتماد اور حمایت ظاہر کی ہے، اسی کی بنیاد پر انہوں نے ریاست کی ایمانداری کے ساتھ خدمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے بھروسے اور تعاون کی بدولت ہی بہار آج ترقی اور وقار کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے، جس کے لیے وہ پہلے بھی کئی بار عوام کا شکریہ ادا کر چکے ہیں۔
पिछले दो दशक से भी अधिक समय से आपने अपना विश्वास एवं समर्थन मेरे साथ लगातार बनाए रखा है, तथा उसी के बल पर हमने बिहार की और आप सब लोगों की पूरी निष्ठा से सेवा की है। आपके विश्वास और समर्थन की ही ताकत थी कि बिहार आज विकास और सम्मान का नया आयाम प्रस्तुत कर रहा है। इसके लिए पूर्व में…
— Nitish Kumar (@NitishKumar) March 5, 2026
نتیش کمار نے مزید کہا کہ اسی خواہش کے تحت وہ اس بار ہونے والے انتخابات میں راجیہ سبھا کا رکن بننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ عوام کے ساتھ ان کا رشتہ آئندہ بھی اسی طرح مضبوط رہے گا اور وہ سب کے ساتھ مل کر ایک ترقی یافتہ بہار بنانے کے عزم پر قائم رہیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو نئی حکومت بنے گی، اسے ان کا مکمل تعاون اور رہنمائی حاصل رہے گی۔
دوسری جانب نتیش کمار کی جانب سے راجیہ سبھا جانے کی خواہش ظاہر کرنے کے بعد ان کی رہائش گاہ کے باہر کچھ جے ڈی یو کارکنوں نے احتجاج کیا۔ ایک کارکن نے کہا کہ یہ افسوسناک بات ہے کیونکہ نتیش کمار طلبہ تحریک کے زمانے سے ہی بہار کے عوام کی خدمت کرتے آ رہے ہیں اور ریاست کے لوگ انہیں اپنے خاندان کا حصہ مانتے ہیں۔ کارکنوں کا کہنا تھا کہ نتیش کمار کے علاوہ کوئی اور وزیر اعلیٰ نہیں ہونا چاہیے اور وہ چاہتے ہیں کہ وہی بہار کے وزیر اعلیٰ کے طور پر برقرار رہیں۔
