میناب سانحہ: فضائی حملوں میں درجنوں جانیں ضائع، گرلز اسکول کی طالبات کی اجتماعی تدفین کی تیاریاںایران میں حالیہ فضائی کشیدگی کے بعد اموات کی تعداد میں اضافہ، میناب کا واقعہ سب سے دل سوز قرار
ایران پر حالیہ فضائی حملوں کے بعد ملک بھر میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مختلف شہروں میں سینکڑوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مجموعی ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار مسلسل موصول ہو رہے ہیں، اس لیے حتمی تعداد کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔سب سے افسوسناک واقعہ جنوبی شہر میناب میں پیش آیا، جہاں ایک گرلز اسکول بھی حملے کی زد میں آ گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس واقعہ میں بڑی تعداد میں طالبات جاں بحق ہوئیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات میں 165 طالبات کی ہلاکت کا ذکر کیا جا رہا ہے، تاہم اس کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
میناب میں سوگ کی فضا قائم ہے اور جاں بحق ہونے والی طالبات کی اجتماعی تدفین کے لیے قبریں تیار کی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اجتماعی قبروں کی تصاویر بھی شیئر کی گئی ہیں جن کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ بعض پوسٹس میں ان قبروں کو حالیہ واقعہ سے جوڑا گیا ہے، لیکن حکام کی جانب سے اس سلسلے میں باضابطہ وضاحت کا انتظار ہے۔دوسری جانب ایران کی طرف سے جوابی کارروائیوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں، تاہم ان سے متعلق نقصانات یا ہلاکتوں کی تفصیلات ابھی تک واضح طور پر سامنے نہیں آئیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے اور سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی جا رہی ہیں۔حالات کی سنگینی کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے شہریوں سے احتیاط برتنے اور مصدقہ ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی اپیل کی ہے۔
