جامعہ اکل کوا پر عائد الزامات کی سچائی
📘 ہندوستان کے باشندوں کو ابتدائی سے اعلی تعلیم دینا کس کی ذمہ داری ہے؟
👉 حکومت کی
💼 ہزاروں ہندوستانیوں کو روزگار دینا کس کی ذمہ داری ہے؟
👉 حکومت کی
🍚 دسیوں ہزار غریبوں یتیموں بیواؤں کو مفت غلہ، کھانا، بورنگ کے ذریعہ پانی، مکانات، مفت علاج — یہ سب کس کی ذمہ داری ہے؟
👉 حکومت کی
تقریباً 47 سالوں سے بالکل صاف شفاف طریقے سے پورے ملک میں جامعہ اکل کوا بے لوث اتنی عظیم خدمات انجام دے رہا ہے جس کی مثال ملک ہی میں نہیں بل کہ آج دنیا میں ملنا بھی مشکل ہے۔ 🌍
جات پات ہندو مسلم کی تفریق کے بغیر یہ خدمات جاری ہے۔ ❤️
جس پر اسے ملک کا سب سے بڑا ایوارڈ کیا نوبل پرائز کا بھی وہ مستحق ہے۔ 🏅
مگر افسوس کہ پچھلے تقریباً دو سال سے سراسر ظلم ہورہا ہے 😔
اور اسے مجرم ثابت کرنے کے لیے کیریکٹر لیس ایسے افراد لگے ہوئے ہیں، جن کی اشلیل ویڈیو نیٹ پر موجود ہے، جن آفسروں پر ریپ کے آروپ ثابت ہوچکے ہیں۔
ایسے لوگوں کے بے بنیاد الزامات پر حکومت نے ملک کے ایک باوقار ادارے کو داؤ پر لگانے کا ارادہ کیا ہے۔ ❗
یہ دنیا کو کیا دکھانا چاہتے ہیں !؟
📑 ایف سی آر منسوخ کرنے کی سچی کہانی
ہماری مستند تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دو سال قبل بے بنیاد الزام لگا کر، جس کی کوئی حقیقت نہیں، پہلے ایف سی آر اے منسوخ کیا گیا۔
🧣 کشمیر میں معمولی رقم کی کمبلیں تقسیم کی گئی اسے وائلینٹ بتایا، جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
نندربار کے وینڈر سے کمبل خریدی گئی، اس کے اکاؤنٹ میں پیسے دیے گئے، اس نے مال دہلی سے کشمیر میں دیا۔
اس کا ای وے بل رکھا، جس میں وہ مال ایسے ادارے کے نام پر گیا جس کا ایف سی آر منسوخ تھا۔
بس اسی بنیاد پر جامعہ کا بھی منسوخ کردیا۔
جامعہ نے سپریم کورٹ کے وکیل کے ذریعہ واضح کیا کہ ہم نے اس ادارے کو کوئی رقم نہیں دی ہے نہ ہم اسے جانتے ہیں، بس مال وہاں پہنچا ہے۔
تقسیم کس کو اور کہاں ہوا—ان کی پوری تفصیلات بھی مہیا کی، مگر اس کو ناقابلِ توجہ قرار دیا گیا۔
💔 جس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے!!
👤 خالد خضمی یمنی کے واقعہ کی حقیقت
جنوری ۲۰۲۵ کے ۲۸ تاریخ کو نندربار ایس پی نے جامعہ اکل کو سے خالد خضمی کی تفصیلات مانگی جبکہ وہ ویلڈ ویزا کے ساتھ ہندوستان آئے تھے۔
ان کا ویزہ ختم ہوا تو یمن کے حالات خراب ہوگئے اور ساری پروازیں بند ہوگئیں۔
انہوں نے کوشش کی ویزہ بڑھانے کی مگر کچھ تاخیر ہوگئی، وہ بھی صرف دس دن!
وہ ایم پی میں پکڑے گئے اور ایک غلط قلم 14A ڈال کر انہیں جیل بھیج دیا گیا۔
جبکہ 14A اس پر لگتا ہے جو بغیر ویزہ کے ملک میں داخل ہوا ہو، اور یہ تو ویلڈ ویزا کے ساتھ آئے تھے — ان پر یہ قلم لگتا ہی نہیں ہے۔ ❗
جبل پور ہائی کورٹ نے انہیں یمن جنرل کونسلیٹ ممبئی کو سپرد کیا۔
انہوں نے ہوم منسٹری اور نندربار ایف آر او کو انفارم کیا کہ یہ اکل کوا میں رہیں گے، وہاں ساری کارروائی ہوئی۔
صرف دس دن اوور اسٹے کی بنیاد پر دس سال سے ایم پی میں ٹرائل چل رہا تھا۔
اکل کوا پولیس اسٹیشن اور نندربار ایس پی کے علم میں سب کچھ تھا، کوئی چیز جامعہ نے چھپائی نہیں تھی۔
مگر دس سال بعد موجودہ ایس پی نے بتاریخ ۱۱ فروری خالد کو اسی ایک جرم دس دن اوور اسٹے کو بنیاد بنا کر دوبارہ گرفتار کرکے یہ غلط الزام لگایا کہ اوید روپ سے رہ رہے تھے۔
اور جامعہ اکل کوا کے بانی و فاؤنڈر، دنیا کی عظیم ہستی حضرت مولانا غلام محمد و ستانوی، جو شدید بیماری، ڈایلیسیس اور دل کی بیماری کے نازک مرحلے سے گزر رہے تھے —
انہیں اور ان کے جانشین حضرت مولانا حذیفہ کو بھی بے بنیاد الزام لگا کر FIR میں مجرم ٹھہرایا۔ 😔
دو یا تین ہی ہفتے میں سیشن کورٹ نے بیل دے دی۔
مولانا بیچارے اسی سخت بیماری کے عالم میں بذریعہ ambulance اکل کو پولیس اڈے گئے۔
مولانا حذیفہ صاحب بھی ایک ماہ ہر ہفتے حاضر ہوتے رہے۔
انہیں ذہنی طور پر بہت ٹارچر کیا گیا، مگر انہوں نے صبر و تحمل سے کام لیا۔
اس بہانے:
ایس پی،
ایل سی بی،
پی آئی ہیمینت پاٹل
کی طرف سے نوٹس پر نوٹس آتے رہے۔
کبھی طلبہ کی معلومات، کبھی اساتذہ و اسٹاف کی، کبھی اکاؤنٹس کی، کبھی زمین کی—غرضیکہ کیس کی آڑ میں یہ سب شروع کیا گیا۔
حکمران جماعت کے کچھ افراد اس معاملہ کو بڑھا چڑھا کر میڈیا میں اچھالتے رہے۔ 📺
😢 ظلم کی انتہاء
صرف دس دن اوور اسٹے کی سزا بیچارہ غیر ملکی دس سال سے بھگت رہا ہے۔
ایک ہی جرم پر دو دو مرتبہ غلط مقدمے، کئی مہینوں کی جیل۔
اب نہ اسے جانے دیا جارہا ہے اور نہ اس کے مقدمہ کو سلجھایا جارہا ہے،
بلکہ جان بوجھ کر الجھانے کی کوشش اور اس کی آڑ میں جامعہ اکل کوا کو بھی گسیٹا جارہا ہے۔
👩🍼 خدیجہ خالد — انسانیت پامال
خدیجہ خالد یمن کے حالات خراب ہونے سے اپنے بچوں سمیت رفیوجی تھی۔
ایک سال سے کم کا اس کا بچہ تھا۔
انہیں اکل کوا پولیس اسٹیشن انکوائری کے نام پر بلا کر جیل میں ڈالا گیا۔
چھوٹے دودھ پیتے بچے پر بھی رحم نہیں کیا گیا۔ 👶💔
بچوں سے دور تقریباً ڈیڑھ ماہ جیل میں رہی۔
اس کے بعد سیشن کورٹ نے بیل دی۔
سوچو انسانیت کو کیسے پامال کیا گیا!؟
یہ ہے ہمارے اعلی تعلیم یافتہ ظالم آفسر؟؟ 😡
🆔 ادھار کارڈ بنانے کی حقیقت
طویل عرصہ سے ان کے ہندوستان میں قیام کی وجہ سے ان کے بچوں کی تعلیم کے لیے ایجیوکیشن آفسر سے پرمیشن لے کر ان کے بچوں کا اسکول میں داخلہ دیا گیا۔
حکومت نے ادھار کارڈ طلب کیا۔
ملک میں پرانے قانون میں اگر 180 دن کوئی قیام کرتا ہے تو ادھار کارڈ ضرورت پڑنے پر بنا سکتا ہے۔
لہٰذا آدھار بنایا، جس میں یمن نیشنل ہی بتایا — کوئی غلط کام نہیں ہوا۔
دو بچوں کے جنم داخلے بھی کورٹ سے ایفی ڈیویٹ کرکے بنائے۔
اس کے بعد یمن کونسلیٹ نے اسی ادھار پر یمنی پاسپورٹ ان بچوں کے جاری کیے۔
اب آپ ہی بتائیں اس پورے معاملے میں کہاں کیا غلط ہوا ہے؟؟؟ 🤷♂️
🎓 جامعہ کا تعلیمی مشن
جامعہ اکل کوا اسکول کالج میں علاقے کے ۳۰ فیصد سے زائد غیر مسلم بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
اب تک ۳۰ سال میں تقریباً ۹ ہزار غیر مسلم بچے:
ڈاکٹر 👨⚕️
انجینئر 👷♂️
فارمسسٹ
آئی ٹی آئی
نرسنگ 👩⚕️
بی ایڈ
ایس ایس سی
ایچ ایس سی
وغیرہ سرٹیفکیٹ حاصل کرکے برسر روزگار ہیں۔
جو اب تک کے پاس آؤٹ اسٹوڈنٹس کا ۲۵ فیصد ہے۔
اسی لیے جامعہ کے خلاف لوکل سپورٹ بھی نہیں ملا۔
🚨 جھوٹ اور پروپیگنڈا
جھوٹ اور پروپیگنڈوں کا بازار ایسا گرم کیا گیا کہ ای ڈی کو بھی پہنچا دیا۔
جامعہ سے انہیں کوئی کیش نہیں ملا۔
ایک ٹرسٹی کے یہاں سے پانچ لاکھ، دوسری جگہ سے چار لاکھ — دونوں زمیندار —
اسے ٹوٹل ۹ کرکے جامعہ کی طرف منسوب کردیا گیا۔
اب آپ اندازہ لگا سکتے ہو کہ پوری حقیقت کیا ہے اور لوگوں کو کس طرح گمراہ کیا جارہا ہے!؟ 😔
📢 سچ سب تک پہنچائیں
ان تفصیلات کو تمام لوگوں تک پہنچایا جائے تاکہ حقیقت سامنے آجائے اور دنیا کو معلوم ہو کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے!
اس ملک میں:
تعلیم دینا 📚
میڈیکل سہولیات دینا 🏥
پانی اناج پہنچانا 💧
سردی کے سویٹر اور کمبل دینا 🧥
سیلاب و زلزلے کے مظلومین کی مدد کرنا 🏚️
ہسپتال اور میڈیکل کالجز چلانا
یتیموں و بیواؤں کی مدد کرنا 🤲
اگر یہ جرم ہے… تو پھر خدمت کرنے والا مجرم تو کیا کہلائے؟
قوم و وطن کی فلاح و بہبودی کے لیے ہمیشہ ایسے لوگ اور ادارے کام کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ 🇮🇳
🌹 مولانا کی خدمات اور حکومت کا رویہ
مولانا کے انتقال اور ان کی خدمات کو دیکھتے ہوئے تو اگر حکومت علم دوست ہوتی تو گارڈ آف آنر دیتی۔
اور ایسے اداروں کو کام کا میدان دیتی۔
مگر اس کے برعکس بھرسٹاچارنیتاؤں کی الزام تراشی کو بڑھاوا دیا جارہا ہے۔
🤲 دعا
اللہ ہی ہم سب کارساز ہے۔
کوئی اللہ کے عذاب سے بچنے والا نہیں!
اچھے لوگوں کو ستانے والوں کا انجام ہمیشہ برا ہی ہوا ہے۔
دیکھتے ہیں ان تمام ظالموں کا باری باری کیا انجام ہوتا ہے؟؟!
🤲 اے اللہ! تو ہمارے ملک کے اس تعلیمی ادارے کی مکمل حفاظت فرما اور ظالموں کو جلد انجامِ بد تک پہنچا۔ آمین۔
منجانب:رابطہ مکاتب ناندیڑ

Hi, this is a comment.
To get started with moderating, editing, and deleting comments, please visit the Comments screen in the dashboard.
Commenter avatars come from Gravatar.