ای وی ایم سے کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ یا ووٹنگ کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرنے کی صورت میں الیکشن کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ قصورواروں کے خلاف بلا جھجک مجرمانہ کارروائی کی جائے گی، اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ ووٹنگ بھی کرائی جا سکتی ہے۔ اسی تناظر میں انتخابی ریاست مغربی بنگال میں ووٹنگ سے ایک دن قبل ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر نے 1951 کے عوامی نمائندگی ایکٹ کے سختی سے نفاذ کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ تمام سیاسی جماعتوں کے عہدیداران، کارکنان اور حامی جو متعلقہ حلقے کے ووٹر نہیں ہیں اور باہر سے لائے گئے ہیں، وہ انتخابی مہم کے اختتام کے ساتھ ہی فوری طور پر حلقہ چھوڑ دیں، یعنی ووٹنگ سے 48 گھنٹے قبل غیر مقامی افراد کا وہاں سے نکلنا لازمی ہوگا۔
چیف الیکٹورل آفیسر نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی افسر کی جانب سے لاپرواہی، بدسلوکی، امتیازی رویہ یا ذمہ داریوں میں ناکامی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے باقاعدہ ہدایات جاری کرتے ہوئے تمام پریزائڈنگ افسران کو ان پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔
ای سی آئی کی ہدایات کے مطابق ای وی ایم کے بٹن پر تمام امیدواروں کے نام اور نشانات واضح ہونے چاہئیں اور کسی بھی بٹن کو ٹیپ، گوند یا کسی اور چیز سے ڈھانپنا سختی سے منع ہے۔ مزید یہ کہ بیلٹ یونٹ کے بٹنوں پر سیاہی، رنگ، عطر یا کوئی بھی گیلا مادہ لگانا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس سے ووٹنگ کی رازداری متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر کہیں ایسا معاملہ سامنے آتا ہے تو پریزائڈنگ آفیسر فوری طور پر سیکٹر آفیسر یا الیکٹورل آفیسر کو اطلاع دیں گے۔
کمیشن نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے تمام معاملات ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ یا ووٹنگ میں رکاوٹ کے زمرے میں آئیں گے، جو ایک سنگین انتخابی جرم ہے۔ ایسے کسی بھی واقعہ میں قصوروار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے
