مہاراشٹر اے ٹی ایس نے اورنگ آباد اور ناندیڑ کے کئی نوجوانوں سے پاکستانی گینگسٹر شہزاد بھٹی کے رابطوں کے معاملے میں طویل پوچھ گچھ کی ہے۔ جانچ ایجنسیوں کے مطابق شہزاد بھٹی سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کر رہا تھا۔
اے ٹی ایس نے اورنگ آباد کے مختلف علاقوں سے 13 نوجوانوں کو حراست میں لے کر تقریباً سات گھنٹے تک تفتیش کی۔ بعد میں ابتدائی جانچ کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا، لیکن ان کے بینک اکاؤنٹس اور سوشل میڈیا سرگرمیوں کی باریک بینی سے جانچ جاری ہے۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہزاد بھٹی گزشتہ دو سال سے ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کی نگرانی میں ہے۔ الزام ہے کہ وہ نوجوانوں کو پیسے اور بیرون ملک مواقع کا لالچ دے کر ملک مخالف سرگرمیوں میں شامل کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
اے ٹی ایس کو شبہ ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ایک خفیہ نیٹ ورک تیار کیا جا رہا تھا۔ اسی سلسلے میں ناندیڑ سے بھی دو نوجوانوں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔
فی الحال جانچ ایجنسیاں اس بات کا پتہ لگانے میں مصروف ہیں کہ آیا ان نوجوانوں اور پاکستانی گینگسٹر کے درمیان مالی لین دین بھی ہوا تھا یا نہیں۔
اس معاملے نے ریاست میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور نوجوانوں کے آن لائن استحصال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
