مغربی بنگال حکومت نے ریاست کے تمام سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں میں صبح کی اسمبلی کے دوران ’وندے ماترم‘ گانا لازمی قرار دے دیا ہے۔ محکمۂ اسکولی تعلیم کی جانب سے جاری نئے حکم کے مطابق یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ ہوگا اور طلبا کو کلاسیں شروع ہونے سے پہلے قومی گیت گانا ہوگا۔
محکمہ تعلیم نے اسکول انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ روزانہ ہونے والی دعائیہ اسمبلی میں اس فیصلے پر سختی سے عمل کرایا جائے۔ ذرائع کے مطابق اسکولوں سے عمل درآمد کا ریکارڈ محفوظ رکھنے کو بھی کہا گیا ہے تاکہ بعد میں اس کی جانچ کی جا سکے۔
ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قدم کا مقصد طلبا میں قومی جذبہ اور ثقافتی شعور کو فروغ دینا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اسکول اسمبلی کے نظام میں مزید تبدیلیاں بھی کی جا سکتی ہیں تاکہ قومی اور ریاستی گیتوں کو باقاعدہ شامل کیا جا سکے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں قومی علامتوں اور گیتوں کے احترام سے متعلق بحث تیز ہو رہی ہے۔ حکومت کے اس اقدام کو سیاسی اور تعلیمی حلقوں میں کافی اہم مانا جا رہا ہے، جبکہ بعض اساتذہ تنظیموں نے اسمبلی کے دورانیے اور مختلف گیتوں کی ترتیب کو لے کر مزید وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بیشتر اسکولوں میں بنیادی طور پر قومی ترانہ ’جن گن من‘ گایا جاتا تھا، لیکن اب ’وندے ماترم‘ کو بھی صبح کی اسمبلی کا مستقل حصہ بنا دیا گیا ہے۔
