مراٹھواڑہ اور اورنگ آباد سمیت کئی علاقوں میں شدید گرمی نے دودھ کی پیداوار پر بڑا اثر ڈالا ہے۔ بڑھتے درجہ حرارت کے باعث دودھ کی پیداوار میں 15 سے 20 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے دودھ پیدا کرنے والے کسان شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق گرمی کی شدت کے باعث سبز چارہ کم ہو گیا ہے جبکہ جانوروں کے چارے کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب دودھ کی قیمتوں میں کمی نے کسانوں کی پریشانی مزید بڑھا دی ہے۔
دودھ پیدا کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پلاسٹک پیکنگ، چارہ اور پانی سب کچھ مہنگا ہو چکا ہے، لیکن دودھ کی مناسب قیمت نہیں مل رہی۔ اس صورتحال میں چھوٹے کسانوں کے لیے اخراجات پورے کرنا مشکل بنتا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مراٹھواڑہ میں روزانہ لاکھوں لیٹر دودھ جمع کیا جاتا ہے، تاہم شدید گرمی کے باعث اس مقدار میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ خاص طور پر بھینسوں کی دودھ پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔
ماہرین زراعت کا کہنا ہے کہ گرمی اور پانی کی قلت مستقبل میں دودھ کی صنعت کے لیے بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ کسانوں نے حکومت سے سبسڈی اور خصوصی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔
عوامی حلقوں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں دودھ اور دودھ سے بنی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
