نئی دہلی: All India Muslim Personal Law Board نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے پر شدید اعتراض درج کیا ہے جس میں وندے ماترم کو قومی ترانے ’جن گن من‘ کے مساوی حیثیت دیتے ہوئے اس کے تمام چھ اشلوک کو لازمی قرار دینے کی بات کہی گئی ہے۔ بورڈ نے اس اقدام کو آئین کی روح، مذہبی آزادی اور ملک کی سیکولر روایت کے خلاف قرار دیتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے بیان میں کہا کہ کسی سیکولر ملک میں حکومت کسی خاص مذہبی نظریے یا عقیدے کو تمام شہریوں پر زبردستی نافذ نہیں کر سکتی۔ ان کے مطابق وندے ماترم کے بعض اشلوک میں دیوی دیوتاؤں خصوصاً دیوی درگا کی عقیدت بیان کی گئی ہے، جو اسلامی عقیدۂ توحید سے مطابقت نہیں رکھتی۔
انہوں نے کہا کہ اسلام صرف ایک خدا کی عبادت کی تعلیم دیتا ہے، اس لیے مسلمانوں کو وندے ماترم کے مکمل اشلوک پڑھنے پر مجبور کرنا ان کے مذہبی حقوق میں مداخلت تصور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستانی آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے اور کسی حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عقیدے کے معاملے میں دباؤ ڈالے۔
ڈاکٹر الیاس نے تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ 1937 میں رابندر ناتھ ٹیگور کے مشورے پر کانگریس قیادت نے یہ طے کیا تھا کہ وندے ماترم کے صرف ابتدائی دو اشلوک ہی عوامی استعمال کے لیے مناسب ہیں، کیونکہ بعد کے اشلوک مذہبی نوعیت رکھتے ہیں۔ بعد ازاں 1950 میں دستور ساز اسمبلی نے بھی اسی موقف کو تسلیم کیا تھا۔
بورڈ کا کہنا ہے کہ موجودہ فیصلہ اس تاریخی اتفاق رائے کے برخلاف ہے اور اس سے ملک میں مذہبی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ قومی یکجہتی زبردستی نظریات مسلط کرنے سے نہیں بلکہ آئین کی پاسداری، مذہبی احترام اور باہمی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا اور قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔
