مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے عہدہ نہ چھوڑنے والے بیان نے سیاسی ماحول کو گرما دیا ہے۔ اس بیان کے بعد آئینی اور قانونی بحث بھی تیز ہو گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق انتخابات میں بی جے پی کو واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے جبکہ ترنمول کانگریس اکثریت سے پیچھے رہ گئی۔ اس کے باوجود طویل عرصے سے وزیر اعلیٰ رہنے والی ممتا بنرجی نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں استعفیٰ نہیں دیں گی۔ اس صورتحال نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا انتخابی شکست کے باوجود کوئی وزیر اعلیٰ اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتا ہے؟ اور اگر وہ استعفیٰ دینے سے انکار کرے تو کیا قانونی کارروائی ممکن ہے؟
قانونی ماہرین کے مطابق آئین ہند کے تحت وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ گورنر کی منظوری اور اسمبلی میں اکثریت پر قائم رہتی ہے۔ جب تک ایوان میں اکثریت برقرار ہو، حکومت قانونی طور پر کام کر سکتی ہے۔ تاہم اکثریت ختم ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ کے عہدے پر رہنے کی آئینی بنیاد کمزور ہو جاتی ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ انتخابات میں شکست کے بعد وزیر اعلیٰ کا عہدے پر برقرار رہنا عموماً عبوری یا نگراں نوعیت کا ہوتا ہے، جس میں بڑے پالیسی فیصلے محدود ہو جاتے ہیں اور نئی حکومت کی تشکیل تک انتظامی امور چلائے جاتے ہیں۔
اگر وزیر اعلیٰ استعفیٰ دینے سے انکار کرے تو آئینی طور پر گورنر کے پاس اختیارات موجود ہوتے ہیں کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے کر اکثریت ثابت کرنے کو کہیں، نئی جماعت کو حکومت بنانے کی دعوت دیں یا بعض حالات میں صدر راج کی سفارش بھی کر سکتے ہیں۔
قانونی ماہرین واضح کرتے ہیں کہ صرف استعفیٰ نہ دینے پر براہ راست کوئی فوجداری کیس نہیں بنتا، کیونکہ یہ معاملہ بنیادی طور پر آئینی اور سیاسی دائرہ کار میں آتا ہے۔ البتہ اگر آئینی عمل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومتی فیصلے کیے جائیں تو صورتحال سنگین ہو سکتی ہے اور آئینی اداروں کی مداخلت ممکن ہو جاتی ہے۔
