مغربی ایشیا کی کشیدگی کا اثر، پاکستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ، بازار رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور توانائی بحران کے اثرات اب پاکستان تک پہنچ گئے ہیں۔ ایندھن کی قلت اور سپلائی میں رکاوٹوں کے پیش نظر حکومتِ پاکستان نے ملک بھر میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کی منظوری دی گئی۔ اس کے تحت پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بازاروں، شاپنگ مالز اور دیگر تجارتی مراکز کو رات 8 بجے بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق خیبرپختونخوا کے کچھ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں محدود رعایت دیتے ہوئے بازار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دی گئی ہے، تاہم عمومی طور پر تمام جنرل اسٹورز، مالز اور دکانیں 8 بجے بند ہوں گی۔
اس کے علاوہ ریسٹورنٹس، بیکریاں، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کو رات 10 بجے کے بعد بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ گھریلو سطح پر شادی تقریبات پر بھی اسی وقت کے بعد پابندی عائد کی گئی ہے۔ البتہ میڈیکل اسٹورز اور فارمیسیز کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات پٹرولیم مصنوعات کے استعمال کو کم کرنے اور توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی عوام کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی کی رقم ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے منتقل کی جا رہی ہے۔
مزید برآں گلگت اور مظفرآباد میں ایک ماہ تک انٹرا سٹی پبلک ٹرانسپورٹ مفت فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، جس کے اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔
حکام کے مطابق یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ کر دی گئی ہیں، جبکہ سندھ میں اسی حوالے سے مشاورت جاری ہے اور جلد فیصلہ متوقع ہے۔
