جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر بدھ کی رات جموں میں ایک شادی کی تقریب کے دوران قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی۔ خوش قسمتی سے وہ اس حملے میں محفوظ رہے جبکہ موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو قابو کر لیا۔
बड़ी खबर-
जम्मू में पूर्व मुखमंत्री फारूक अब्दुल्लाह पर एक शादी समारोह में फायरिंग । गोली चली। बाल बाल बचे। डिप्टी सीएम सुरेंद्र चौधरी भी साथ थे।
हमलावर कमल सिंह जामवाल गिरफ्तार! pic.twitter.com/1qkBWGwjho— Narendra Nath Mishra (@iamnarendranath) March 11, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ جموں کے علاقے گریٹر کیلاش میں واقع رائل پارک میں پیش آیا، جہاں ڈاکٹر فاروق عبداللہ ایک شادی کی تقریب میں شریک ہونے پہنچے تھے۔ اس موقع پر جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سرندر چودھری بھی موجود تھے۔واقعے کی سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب فاروق عبداللہ تقریب سے واپس جا رہے تھے تو ایک شخص اچانک تیزی سے ان کے قریب پہنچا اور پستول نکال کر فائر کرنے کی کوشش کی۔ تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو روک لیا اور ممکنہ بڑے حادثے کو ٹال دیا۔پولیس نے حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔ ملزم کی شناخت کمل سنگھ جاموال کے نام سے ہوئی ہے جو جموں کے علاقے پرانی منڈی کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس کی پیدائش 1963 میں ہوئی اور اولڈ سٹی میں اس کی چند دکانیں ہیں جن کے کرائے سے اس کا گزر بسر ہوتا ہے۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ تقریباً بیس برس سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا اور یہ اس کا ذاتی منصوبہ تھا۔ اس کے پاس سے برآمد ہونے والی پستول بھی اسی کی ملکیت بتائی جا رہی ہے۔دوسری جانب واقعے کے بعد جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے والد کے محفوظ رہنے پر خدا کا شکر ادا کیا، تاہم انہوں نے سکیورٹی انتظامات پر سوال بھی اٹھایا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں عمر عبداللہ نے کہا کہ اللہ کا کرم ہے کہ ان کے والد محفوظ ہیں، مگر یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ زیڈ پلس سکیورٹی رکھنے والے سابق وزیر اعلیٰ کے اتنے قریب ایک مسلح شخص کیسے پہنچ گیا۔پولیس اس واقعے کی مکمل جانچ کر رہی ہے اور ملزم سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔
