مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی کشیدگی کے درمیان ہندوستان نے ایران سے اہم سفارتی رابطہ قائم کیا ہے۔ اس سلسلے میں ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
وزیر خارجہ جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس گفتگو کی اطلاع دی۔
A detailed conversation this evening with Foreign Minister @araghchi of Iran on the latest developments regarding the ongoing conflict. We agreed to remain in touch.
— Dr. S. Jaishankar (@DrSJaishankar) March 10, 2026
انہوں نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان موجودہ صورتحال اور خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی پر تفصیل سے بات ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے پورے خطے میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کے اثرات دنیا کے کئی ممالک کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے اسلامی جمہوریہ نیوز ایجنسی کے مطابق اس گفتگو کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے حالیہ حملوں اور ان کے اثرات کے بارے میں ہندوستان کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور ان حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔گفتگو کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے خلیجی خطے کی صورتحال، سمندری راستوں کی سلامتی اور خاص طور پر آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی حفاظت جیسے اہم معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سیاست اور تجارت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، اسی لیے مختلف ممالک سفارتی رابطوں کے ذریعے صورتحال کو سمجھنے اور قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
